wish's picture

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں

پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان مکینوں میں

دیکھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ
سانپ ہوتے ہیں آستینوں میں

قہر کی آنکھ سے نہ دیکھ ان کو
دل دھڑکتے ہیں آبگینوں میں

آسمانوں کی خیر ہو یا رب
اک نیا عزم ہے زمینوں میں

وہ محبت نہیں رہی جالب
ہم سفیروں میں ہم نشینوں میں

wish's picture

یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے

یہ اُجڑے باغ ویرانے پرانے
سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے

اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں
وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر
نئی ہے شمع پروانے پرانے

نئی منزل کی دُشواری مسلّم
مگر ہم بھی ہیں دیوانے پرانے

ملے گا پیار غیروں ہی میں جالب
کہ اپنے تو ہیں بیگانے پرانے

wish's picture

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں

وطن کو کچھ نہیں خطرہ، نظامِ زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

جو بیٹھا ہے صفِ ماتم بچھائے مرگِ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں، نہ میرا گھر ہے خطرے میں

جہاں اقبال بھی نذرِ خطِ تنسیخ ہو جالب
وہاں تجھ کو شکایت ہے، تیرا جوہر ہے خطرے میں

wish's picture

تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو رنگ ہے غبار ہیں تیری گلی کے لوگ
تو پھول ہے شرار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو رونقِ حیات ہے تو حُسنِ کائنات
اجڑا ہوا دیار ہیں تیری گلی کے لوگ

تو پیکرِ وفا ہے مجسّم خلوص ہے
بدنامِ روزگار ہیں تیری گلی کے لوگ

روشن تیرے جمال سے ہیں مہر و ماہ بھی
لیکن نظر پہ بار ہیں تیری گلی کے لوگ

دیکھو جو غور سے تو زمیں سے بھی پست ہیں
یوں آسماں شکار ہیں تیری گلی کے لوگ

پھر جا رہا ہوں تیرے تبسّم کو لوُٹ کر
ہر چند ہوشیار ہیں تیری گلی کے لوگ

کھو جائیں گے سحر کے اجالوں میں آخرش
شمع سرِ مزار ہیں تیری گلی کے لوگ

wish's picture

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں

اب تذکرہء خندہء گل بار ہے جی پر
جاں وقفِ غمِ گریہء شبنم ہے مری جاں

رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب
تصویر ِپریشانیء عالم ہے مری جاں

یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت
یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پرنم ہے مری جاں

ہم سادہ دلوں پر یہ شب ِغم کا تسلط
مایوس نہ ہو اور کوئی دَم ہے مری جاں

یہ تیری توْجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سے
ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں

اے نزہتِ مہتاب ترا غم ہے مری زیست
اے نازش ِخورشید ترا غم ہے مری جاں

wish's picture

لوک گیتوں کا نگر یاد آیا

لوک گیتوں کا نگر یاد آیا
آج پردیس میں گھر یاد آیا

جب چلے آئے چمن زار سے ہم
التفاتِ گُلِ تر یاد آیا

تیری بیگانہ نگاہی سرِ شام
یہ ستم تابہ سحر یاد آیا

ہم زمانے کا ستم بھول گئے
جب ترا لطفِ نظر یاد آیا

تو بھی مسرور تھا اُس شب سرِ بزم
اپنے شعروں کا اثر یاد آیا

پھر ہوا دردِ تمنّا بیدار
پھر دلِ خاک بسر یاد آیا

ہم جسے بھول چُکے تھے جالب
پھر وہی راہ گزر یاد آیا

wish's picture

ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں

ہم نے سنا تھا صحن چمن میں کیف کے بادل چھائے ہیں
ہم بھی گئے تھے جی بہلانے اشک بہا کر آئے ہیں

پھول کھلے تو دل مرجھائے شمع جلے تو جان جلے
ایک تمہارا غم اپنا کر کتنے غم اپنائے ہیں

ایک سلگتی یاد چمکتا درد فروزاں تنہائی
پوچھو نہ اس کے شہر سے ہم کیا کیا سوغاتیں لائے ہیں

سوئے ہوئے جو درد تھے دل میں‌آنسو بن کر بہہ نکلے
رات ستاروں کی چھاؤں میں یاد وہ کیا کیا آئے ہیں

آج بھی سورج ڈوب گیا بے نور افق کے ساگر میں
آج بھی پھول چمن میں تجھ کو بن دیکھے مرجھائے ہیں

ایک قیامت کا سناٹا ایک بلا کی تاریکی
ان گلیوں سے دور نہ ہنستا چاند نہ روشن سائے ہیں

پیار کی بولی بول نہ جالب اس بستی کے لوگوں سے
ہم نے سکھ کی کلیاں کھو کر دکھ کے کانٹے پائے ہیں

wish's picture

محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے

محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے
ترے شہر میں اک جہاں چھوڑ آئے

پہاڑوں کی وہ مست و شاداب وادی
جہاں ہم دل ِنغمہ خواں چھوڑ آئے

وہ سبزہ، وہ دریا، وہ پیڑوں کے سائے
وہ گیتوں بھری بستیاں چھوڑ آئے

حسیں پنگھٹوں کا وہ چاندی سا پانی
وہ برکھا کی رت، وہ سماں چھوڑ آئے

بہت دور ہم آگئے اس گلی سے
بہت دور وہ آستاں چھوڑ آئے

بہت مہرباں تھیں وہ گلپوش راہیں
مگر ہم انہیں مہرباں ، چھوڑ آئے

بگولوں کی صورت یہاں پھر رہے ہیں
نشیمن سر ِگلستاں چھوڑ آئے

یہ اعجاز ہے حسن ِآوارگی کا
جہاں بھی گئے، داستاں چھوڑ آئے

چلے آئے ان رہگزاروں سے جالب
مگر ہم وہاں قلب و جاں چھوڑ آئے

Syndicate content