wish's picture

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے

دور افتادہ بستیوں میں کہیں
تیری یادوں سے لو لگائیں گے

شمع ِماہ و نجوم گل کرکے
آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے

آخری بار اک غزل سن لو
آخری بار ہم سنائیں گے

صورت ِموج ِہوا جالب
ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے

wish's picture

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

بیت گیا ساون کا مہینہ،موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا ،جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

wish's picture

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اُس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

wish's picture

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں

خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملےہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر
بچھے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں

ابھی وہ منزلِ فکر و نظر کہاں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

ہیں آج بھی وہی دار و رسن وہی زنداں
ہر اِک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں

یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستےمیں

مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنہیں
وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

زمانہ ایک سا جالب سدا نہیں رہتا
چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں

IN Khan's picture

ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو

ادھ کھلی آنکھوں میں ٹھہری منظروں کی آرزو
اندھے رستے کر رہے ہیں منزلوں کی آرزو

توڑ کر مٹی میری دوبارہ کیوں گوندھی گئی
کر رہا ہے یہ جہان کن صورتوں کی آرزو

آسماں پر ابر کا ہلکا سا بھی ٹکڑا نہیں
خشک مٹی کر رہی ہے بارشوں کی آرزو

پھر میرا ذوقِ تخیل بھی مجسم ہو گیا
پھر ہوئی ذوقِ سفر کو قافلوں کی آرزو

اک عجب منظر میری پیشِ نظر ہے آج کل
پیار کی دہلیز پر ہے نفرتوں کی آرزو

جب زمیں و آسماں آپس میں مل سکتے نہیں
کر رہی ہے خاکِ پا کیوں رفعتوں کی آرزو

حلقۂ گرداب میں شہناز اک مدت سے ہے
دائروں کے باسیوں کو ساحلوں کی آرزو

IN Khan's picture

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے

کانچ کا شہر ہے اور لوگ ہیں پتھر سارے
ہاتھ میں تیشہ لئے پھرتے ہیں رہبر سارے

چشم پوشی کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو
زخمی کر دیتے ہیں احساس کے نشتر سارے

عہدِ رفتہ کی اسیری سے رہائی دے مجھے
یا بدل ڈال میری سوچ کے محور سارے

ہے تمنا تجھے دنیا کی تو بیچ اپنا ضمیر
اہلِ دل، اہلِ نظر رہتے ہیں بے گھر سارے

کعبۂ دل رہے آباد دعا کرنا شہناز
اور اب توڑ دے اغیار کے مندر سارے

IN Khan's picture

ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے

ہم تیز ہواؤں کے ارادے نہیں سمجھے
بدلے ہوئے موسم کے تقاضے نہیں سمجھے

کیوں سر کو پٹختی رہیں موجیں لبِ دریا
سلگے ہوئے ساحل کے کنارے نہیں سمجھے

خیرہ نہیں کرتے یہ جلاتے ہیں نشیمن
بدلی میں چھپے شوخ شرارے نہیں سمجھے

اے خاکِ بدن! شعلۂ جاں بجھنے لگا ہے
کیوں دیدہء حیراں کے اشارے نہیں سمجھے

ہے کتنا کٹھن درد کے صحرا سے گزرنا
یہ بات مقدر کے ستارے نہیں سمجھے

IN Khan's picture

اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا

اونچی پروازوں کا حق مجھ کو ادا کرنا پڑا
بال و پر کٹوانے کا خود فیصلہ کرنا پڑا

ریت کی مانند بکھرا تھا فضاؤں میں وجود
وسعتوں میں وحشتوں کا سامنا کرنا پڑا

حضرتِ انسان جب انسانیت سے گر گئے
فرضِ انساں بھی فرشتوں کو ادا کرنا پڑا

روشنی پھیلی ہے ہر سو میرے دل کی آگ سے
ظلمتِ شب کو بھی مجھ سے رابطہ کرنا پڑا

روگ دل کا بن گیا جب روگ میری جان کا
دشتِ وحشت سے سفر کا فیصلہ کرنا پڑا

Syndicate content