IN Khan's picture

بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے

بکھر کے ٹوٹنے والے صدا نہیں کرتے
کوئی بھی کام خلافِ انا نہیں کرتے

شجر پہ بیٹھے ہوئے پنچھیوں سے بات کرو
فضا میں اڑتے پرندے سنا نہیں کرتے

گہر شناس ہیں طوفاں کے ساتھ رہتے ہیں
سمندروں سے عداوت کیا نہیں کرتے

بڑی خموشی سے آ کر زمیں پہ گرتے ہیں
فلک سے ٹوٹتے تارے صدا نہیں کرتے

بس ایک بار ہی قسمت ہم آزماتے ہیں
پھر اس کے بعد کسی سے گلہ نہیں کرتے

بجھا دیئے ہیں سرِ شام آرزو کے چراغ
ہوا کے رخ پہ دیئے تو جلا نہیں کرتے

IN Khan's picture

وہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھا

وہ دن بھی کیا تھے،غم سے کوئی واسطہ نہ تھا
در پیش اپنے کوئی کٹھن مرحلہ نہ تھا

دہلیز اپنی ذات کی کب ہم نے پار کی
در کونسا تھا ایسا جو ہم پر کھلا نہ تھا

وہ ملتفت ہماری طرف انجمن میں تھے
عرضِ طلب کا ہم کو مگر حوصلہ نہ تھا

ہر نقشِ پا پہ ہو نہ سکی خم جبینِ شوق
جو نقش بھی ملا وہ تیرا نقشِ پا نہ تھا

ہم داستانِ درد سناتے تو کس طرح
محفل میں تیری، کوئی بھی درد آشنا نہ تھا

محسوس اس کو میں نے کیا ہے قریبِ جاں
میرے تخیلات سے وہ ماوراء نہ تھا

یوں تو جہانِ رنگ میں سب کچھ تھا اس کے پاس
شہناز کی دعاؤں کا لیکن صلہ نہ تھا

IN Khan's picture

تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی

تھے عجیب میرے بھی فیصلے، میں کڑی کماں سے گزر گئی
رہے فاصلے میرے منتظر، میں تو جسم و جاں سے گزر گئی

مجھے راستوں کی خبر نہ تھی، اڑی راکھ میرے وجود کی
میں تلاش کرتی ہوئی تجھے، تیرے لامکاں سے گزر گئی

تھیں طویل اتنی مسافتیں، کوئی ساتھ میرا نہ دے سکا
وہ یقیں کی حد پہ ٹھہر گیا، میں ہر اک مکاں سے گزر گئی

تو حجاب میں، میں سراب میں، میری زندگی ہے عذاب میں
تجھے اپنا کہنے کی چاہ میں، کڑے امتحاں سے گزر گئی

نہ عیاں ہوا نہ نہاں ہوا، ہوا امتحاں میرے جذب کا
مجھے مل سکا نہ کوئی نشاں، میں کہاں کہاں سے گزر گئی

IN Khan's picture

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا

دشمنوں سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا
بدگمانی میں گماں کا ذائقہ کیسا رہا

زلزلے تو ذات کی دہلیز پر آتے رہے
ناقۂ خواہش، ہوا سے رابطہ کیسا رہا

شدّتِ غم کچھ ذرا کم ہو تو بتلانا مجھے
جبرِ موسم میں انا کا تجزیہ کیسا رہا

فصلِ گُل میں خوشبوؤں کی قید میں جکڑے رہے
پتھروں سے زخم تک کا فاصلہ کیسا رہا

وقت کے ساحل پہ طوفاں میں گھرے سوچا کئے
بادباں سے کشتیوں کا فاصلہ کیسا رہا

آرزؤں کے تعاقب میں ہوئے اندھے مگر
ترکِ جاں، ترکِ وفا کا حوصلہ کیسا رہا

آبلہ پا ہم سفر، گردِ سفر میں کھو گئے
کیا بتاؤں ہجرتوں کا سلسلہ کیسا رہا

یہ میری وحشت، میری دیوانگی بتلائے گی
کاتبِ تقدیر تیرا فیصلہ کیسا رہا

IN Khan's picture

نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا

نظر میں غیر کی وہ معتبر ہونے نہیں دیتا
صدف کو توڑ کر مجھ کو گہر نہیں ہونے دیتا

وہ اپنی اور میری زندگی کے درمیاں اکثر
اٹھا رکھتا ہے اک دیوار، در ہونے نہیں دیتا

وہ خودسر ہے مگر اک ڈھال بن کر ساتھ رہتا ہے
حوادث کا کبھی مجھ پر اثر ہونے نہیں دیتا

میں چھاؤں اپنی ممتا کی یہاں پر بانٹنا چاہوں
مجھے وہ اپنے سائے میں شجر ہونے نہیں دیتا

زمانہ ساز نظروں سے وہ سب کچھ بھانپ لیتا ہے
مگر اپنے ارادوں کی خبر ہونے نہیں دیتا

بدلتی رُت کی خوشبو اس کو دیوانہ بناتی ہے
بدلتے موسموں کو ہم سفر ہونے نہیں دیتا

وہ میری سوچ کا تانا سدا الجھائے رکھتا ہے
ہجومِ فکر میں بھی بے ہُنر ہونے نہیں دیتا

میری رنگین سپنے آکے اکثر توڑ جاتا ہے
ہے اس کا مجھ پہ احساں، بے بصر ہونے نہیں دیتا

دَر آتا ہے میری احساس میں خوشبو کی صورت وہ
تصور میں بھی خود سے بے خبر ہونے نہیں دیتا

وہ سارے تیر ترکش کے مجھی پر آزماتا ہے
کبھی شہناز مجھ کو بے سَپر ہونے نہیں دیتا

IN Khan's picture

دمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نے

دمِ رخصت اسے جینے کی دعا دی ہم نے
اور پھر آخری کشتی بھی جلا دی ہم نے

مل ہی جائے کسی تعبیر کو شاید کوئی خواب
عکسِ دیوار پہ تصویر بنا دی ہم نے

روح کو جسم کے زندان میں رکھنے کے لئے
بزمِ امید ستاروں سے سجا دی ہم نے

ہم اسیرانِ انا، تشنہ لبِ بام گئے
بازیء زیست بھی داؤ پہ لگا دی ہم نے

تیرگی حد سے بڑھی دل کے نہاں خانوں میں
بھولنے والے تیری یاد جلا دی ہم نے

ڈوبتی شام میں کرنوں کو بچانے کے لئے
ریت کے گھر پہ بھی دیوار اٹھا دی ہم نے

کون آئے گا پلٹ کر ہمیں لے جانے کو
لو چراغوں کی سرِ شام بڑھا دی ہم نے

راکھ ہو جاتے تیری آگ سے سُندر سپنے
آرزوئے شمع تیری ،خود ہی بجھا دی ہم نے

بدگمانی سے نکل آئے گماں کی حد پر
بے یقینی کی فضا آج مٹا دی ہم نے

اپنی ہی سانسوں سے دم گھٹنے لگا جب شہناز
قرضِ جاں دے کے سزا اپنی گھٹا دی ہم نے

IN Khan's picture

خطا اپنی چھپانے کو نئی تدبیر کرتے ہیں

خطا اپنی چھپانے کو نئی تدبیر کرتے ہیں
وہ مجرم ہو کے یوں بھی جرم کی تشہیر کرتے ہیں

یہاں پر غاصبوں اور خودسروں نے کِیا قبضہ
مٹا کر یہ جہاں دنیا نئی تعمیر کرتے ہیں

عجب انداز سے اپنا تخیل کنجِ زنداں میں
کبھی تجسیم کرتے ہیں کبھی تصویر کرتے ہیں

ہماری سوچ پر پہرے بٹھاؤ تم تو ہم جانیں
بندھے ہاتھوں سے زندہ لفظ ہم تحریر کرتے ہیں

خود اپنا سر ہتھیلی پر سجا کر کوئے قاتل میں
کسی صورت ہم اپنی فکر کو زنجیر کرتے ہیں

IN Khan's picture

سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے

سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
چہرہ کس کا بدلا ہے آئینے بدلنے سے

جنگلوں کے سناٹے روح میں اترتے ہیں
خواہشوں کے موسم میں پَا فگار چلنے سے

خواب پھر سے جاگے ہیں نیم خواب آنکھوں میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں آرزو بدلنے سے

گرد گرد چہرہ ہے وحشتوں کے ڈیرے میں
تھک گئی ہوں کتنا میں، دائروں میں چلنے سے

آؤ ایسا کرتے ہیں راہبر بدلتے ہیں
دیکھیں کون ملتا ہے، منزلیں بدلنے سے

ظلمتوں کے چہرے سے آئینے ہٹا ڈالو
روشنی تو ہو گی کچھ، جگنوؤں کے جلنے سے

رقص ہے شراروں کا آج راہگزاروں پر
بستیاں نہ جل جائیں راستوں کے جلنے سے

ذہن کے سلگنے سے جسم راکھ ہوتا ہے
زخم جلنے لگتے ہیں چاند کے نکلنے سے

Syndicate content