IN Khan's picture

ناروا کہیے نا سزا کہیے

ناروا کہیے نا سزا کہیے
کہیے کہیے مجھے بُرا کہیے

تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے

پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے

آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے

وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے

دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے

تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے

وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے

مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے

انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے

میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے

صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے

آگئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے

آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے

ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے

ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور با وفا کہیے

Your rating: None Average: 4 (1 vote)
IN Khan's picture

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز
وہ میرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنی ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

جو زمانے کے ستم ہیں ، وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے

مسکراتے ھوئے وہ مجمعء اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے

سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

کعبہ و دیر میں پتھرا گئیں دونوں آنکھیں
ایسے جلوے نظر آئے ہیں کہ جی جانتا ہے

دوستی میں تری درپردہ ہمارے دشمن
اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغ ِوارفتہ کو ہم آج تیرے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Your rating: None Average: 5 (4 votes)
IN Khan's picture

جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا

جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
خود کو کبھی خوابوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس عمر میں خوش فہمیاں اچھی نہیں ہوتیں
اِس لمحہ کو وعدوں کے حوالے نہیں کرنا

اب اپنے ٹھکانے ہی پہ رہتا نہیں کوئی
پیغام ، پرندوں کے حوالے نہیں کرنا

اب کے جو مسافت ہمیں درپیش ہے اس میں
کچھ بھی تو سرابوں کے حوالے نہیں کرنا!

اِس معرکہء عشق میں جو حال ہو میرا
لیکن مجھے لوگوں کے حوالے نہیں کرنا

Your rating: None Average: 5 (2 votes)
Administration's picture

خدا ھم کو ایسی خدائی نہ دے

خدا ھم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ خود کے سوا کچھ دکھائی نہ دے

ھنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

خطا وار سمجھے گی دنیا تمہیں
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

مجھے اپنی چادر میں یوں ڈھانپ لو
زمیں آسماں کچھ دکھائی نہ دے

خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

Your rating: None Average: 4.8 (4 votes)
Syndicate content