dabirahmedshaikh's picture

Daag mele hein itne

Daag mele hein itne
Aakash mein tare jitney
Sager mein katre jitney
Aankh mein aansoo utney
Chand kirnoon ka jaal buney
Tareeki jugmug jugmug ho uthey
Subhe dem Jab phul khile
Dil ke taar gun guna uthe
Jab jab pedh pe kaga bule
Aasha ke deep jaj jaluthe
Taroo bheri raat me Dabir
Raat ki raani jhum jhum uthe

No votes yet
noorulain's picture

بھیانک رات تھی دریا چڑھا تھا/rafiq sandeelvi

بھیانک رات تھی دریا چڑھا تھا
مگر میں تیری کشتی کھے رہا تھا

نگاہیں دھند میں ڈوبی ہوئی تھیں
کہاسا جسم پر چھایا ہوا تھا

میں اندھا یاتری بوڑھا تھا لیکن
وہ تبت کا پہاڑی سلسلہ تھا

محبت پھر ہماری جاگ اٹھی تھی
پلوں کے نیچے پانی آ گیا تھا

لہو میں چھتریاں کھلنے لگی تھیں
میں اپنی چھاؤں میں سستا رہا تھا
رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (7 votes)
dabirahmedshaikh's picture

Nahi

Trenscreation of Urdu poem in to English
Nahi
Payas haie ke bujhti hi nahe
Aas haie ke tooti hi nahe
Dara haie ke rokta hi nahi
Dawa haie k milti h nahie
Dabir Ahmed

Never
Thirst quenches never
Expectation ends never
Pain ceases not
Medicine available not

No votes yet
Guest Author's picture

موت سے ہم بستری کرکے

موت سے ہم بستری کرکے
زندگی روز نکھر جاتی ہے

ندیم جاوید عثمانی

Your rating: None Average: 4.8 (4 votes)
noorulain's picture

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا/rafiq sandeelvi

جو سیکھے تھے وہ منتر پڑھ رہا تھا
میں لوہے کے کڑے میں پھنس گیا تھا

بدن میں سوئیاں چبھنے لگی تھیں
عمل سارا ہی الٹا ہو گیا تھا

بھر تھے دانوں سے گودام سارے
مگر ہر پیٹ پر پتھر بندھا تھا

دعائیں مستجب ہوتی نہیں تھیں
خدا پر سے یقیں بھی اٹھ گیا تھا

گرفتِ چشم میں تھا آب ِ باراں
گھٹا میں اس کا چہرہ تیرتا تھا
رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (7 votes)
noorulain's picture

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا/rafiq sandeelvi

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا
میں اس کے سامنے گم صم کھڑا تھا

یکایک ریل کی سیٹی بجی تھی
مجھے اس نے خدا حافظ کہا

کھلی کھڑکی سے تا حد ِ بصارت
وہ اپنا ہاتھ لہراتا رہا تھا

سمٹ کر چھکڑے نقطہ بن گئے تھے
سٹیشن پر میں تنہا رہ گیا تھا

اندھیری رات کے پھیلے تھے سائے
میں تکیے سے لپٹ کر رو دیا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 4.7 (6 votes)
noorulain's picture

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا/rafiq sandeelvi

خلاؤں میں معلق ہو گیا تھا
مجھے اس رات جانے کیا ہوا تھا

کچھ ایسی تیز سانسیں چل رہی تھیں
منڈیروں پر دیا بجھنے لگا تھا

مرے اونٹوں کی کونچیں کاٹ کر پھر
قبیلے نے کوئی بدلہ لیا تھا

کئی کتے اچانک بھنک اٹھے تھے
گلی میں کوئی سایہ رینگتا تھا

مری ملکہ کی ساتوں بیٹیوں پر
کسی ڈائن نے جادو کر دیا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (6 votes)
noorulain's picture

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا/rafiq sandeelvi

جو بستی کی حفاظت کر رہا تھا
وہی اک روز پھانسی چڑھ گیا تھا

دیے تھے جس نے کپڑے شہر بھر کو
وہی بازار میں ننگا ہوا تھا

بڑی محنت سے جس نے ہل چلائے
اسی کی فصل کو کیڑا لگا تھا

جنہوں نے بند کیں نیلام گاہیں
انہی ہاتھوں کا سودا ہو رہا تھا

جو چہرے پہلے ہی سے زشت رو تھے
انہی پر کوڑھ کا حملہ ہوا تھا

رفیق سندیلوی

Your rating: None Average: 5 (7 votes)
Syndicate content