Verses

تمام رات میرے گھر کا ایک درکُھلا رہا
میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا

وہ شہر ہے کہ جادوگرنیوں کا کوئی دیس ہے
وہاں تو جو گیا،کبھی بھی لوٹ کر نہ آسکا

میں وجہِ ترکِ دوستی کو سن کر مسکرائی تو
وہ چونک اُٹھا عجب نظر سے مجھ کو دیکھنے لگا

بچھڑ کے مُجھ سے، خلق کو عزیز ہوگیا ہے تُو
مجھے تو جو کوئی ملا، تجھی کو پُوچھتا رہا

وہ دلنواز لمحے بھی گئی رُتوں میں آئےجب
میں خواب دیکھتی رہی، وہ مجھ کو دیکھتا رہا

وہ جس کی ایک پل کی بےرُخی بھی دل کو بارتھی
اُسے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے مجھ کو بُھول جا

دمک رہا ہے ایک چاند سا جبیں پہ اب تلک
گریز پا محبتوں کا کوئی پل ٹھہر گیا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer