تو پھر یہ طے ہواتھا

Verses

تو پھر یہ طے ہواتھا
ہم زمیں سیراب کردیں گے
کہانی نا مکمل تھی مگر پھر بھی ہمیں رکھنا تھااپنی خاک سے لکھی عبارت کا کوئی عنوان بھی آخر
ہمیں صبحوں کے خوابیدہ تبسم کو نئی تقدیس کے شفاف رنگوں سے بدلنا تھا
ہمیں معتوب لہجوںمیں زباں کی لکنتوں کے ذائقے تحلیل ہونے کی اذیت سے نکلنا تھا
ہمیں بے نور لفظوں کے شکستہ دائروں میں رنگ بھرنے تھے
ہمیں خاکستری پگڈنڈیوں پر دیر تک ہمراہ چلنا تھا
کہیں گہرا سمندر تھا،کہیں بے پیرہن موجیں
ہوا کی نغمگی اورآسماں کی نیلگوں وسعت
ہمیں خوابوں کی سیڑھی سے اتر کر دھوپ کی چادر پہ پھیلی گرد کی ساری تہیں تاراج کرنی تھیں
ہمیں بے رنگ تمثیلوں کے میلے جسم پرتدبیر کا ملبوس رکھنا تھا
گماں اور دھیان کے موہوم رستوں پر تیقن کی لکیریں کھینچ کر اک عہد کو تخلیق کرنا تھا
پرانے فلسفوں کی نا مکمل آگہی پر روح کے زرخیز وجدانی تصور نقش تھے لیکن
ہمیں اپنی زبوں حالی کے تاریخی مزاروں پر لگے کتبے مٹانے تھے
خود اپنے گم شدہ نسلی تفاخر کی پرا نی قبر پر رکھے طلسمی عنکبوتی تار بھی معدوم کرنے تھے
پرانے عنکبوتی تار جن کی دھول میںاب تک
سزائیں بانٹتے منصف مکافاتِ عمل کی راکھ چنتے ہیں
قبیحانہ مراتب کی سزائیں کاٹتے تاریخ کے بے رنگ صفحوں پر
ابھی تک درج ہو شاید
ہمیں کوہِ ملامت سے اتر کر بستیاں آباد کرنی تھیں
محبت کی فصیلیں رنج سے آزاد کرنی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ اسحٰق