جفاؤں پر ملال تو آتا ہو گا

Verses

جفاؤں پر ملال تو آتا ہو گا
انہیں میرا خیال آتا تو ہو گا

چھلکتے ہوں گے جب آنکھوں میں آنسو
وہ دور انفعال آتا تو ہو گا

سر بزم تصور شکوہ بر لب
کوئی آشفتہ حال آتا تو ہو گا

شب فرقت کی تنہائی میں اکثر
مسرت پر زوال آتا تو ہو گا

نغمہ بن کے اکثر ان کے دل میں
محبت کا سوال آتا تو ہو گا

وہ پا لیتے تو ہوں گے دل پہ قابو
انہیں یہ بھی کمال آتا تو ہو گا