دلوں کے موسموں کا خیال رکھنا پڑتا ہے،

Verses

دلوں کے موسموں کا خیال رکھنا پڑتا ہے،
ابر آلود موسموں میں
جب ہم خیال کرتے ہیں
کہ
بارش ہونے والی ہے ،
لیکن
اکثر بادل گرج چمک کے بعد
خاموشی اختیار کر لیتا ہے
اور
پھر یوں بارش نہیں ہوتی
لیکن
اگر اس ابر آلود موسم میں کبھی بارش ہو جائے
تو
وہ بارش اکثر تھم کر نہیں برستی،
وہ بارش کچی جھونپڑیوں کا خیال نہیں رکھتی
اور
ہم پھر ایک نئ پر امید صبح کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں
کہ
شاید
آنے والی کل کا موسم ایک خوشگوار موسم ہو
لیکن
اب کی بار ابر آلود موسم کی بارشیں شاید ہمارے دلوں کے گھروں کو بھی پہنچیں
اور
جیسے خزاں رسید پتے بارش کے بعد اکثر ہرے ہو جاتے ہیں
تو
میرا خیال ہے کہ یہ بارش موسم کا خیال رکھے گی،
کیونکہ
دلوں کے موسموں کا خیال رکھنا پڑتا ہے