Verses

دل نے کسی کی ایک نہ مانی
اف ری محبت ، ہائے جوانی

خود ہی کرنا، خود ہی بھرنا
عشق میں ہے کتنی آسانی!

کھول نہ دے سب راز تمھارے
آئینہ کی یہ حیرانی!

آج چلی پھر کیا پُروائی؟
دل میں ہُوک اٹھی انجانی

ان کے بدلے بدلے تیور!
ڈھنگ نیا ہے ، ریت پرانی!

کون کسی کا غم کھاتا ہے
چھوڑو یہ پریوں کی کہانی

دل کے بدلے در د لیا ہے
آپ اسے کہہ لیں نادانی!

عشق کی منزل؟ اللہ ! اللہ!
دریا دریا! پانی پانی!

پاس وفا ہے ورنہ ہم بھی
کہتے سب سے رام کہانی

جیسی کرنی ویسی بھرنی
اور کرو سرور من مانی!

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer