Verses

راہبر بن کر راہِ الفت میں رہزن بن گیا
دل نے کی یہ دوستی ہم سے کہ دشمن بن گیا

ہوکے نازاں اپنی صورت پر ہوا ہے خُود پرست
وہ بت کافر، صنم بن کر برہمن بن گیا

شب کو جلتا چھوڑ آئے تھے دل اس کُوچے میں ہم
وہ بھی قسمت سے چراغِ راہِ دشمن بن گیا

کیا فروغِ حسن ہے وہ شب کو ہمسائے میں تھے
خانہء تاریک میرا، دشتِ ایمن بن گیا

ہے نزاکت مانع جنبش لبِ جاں بخش کو
کام تیرا خوب چشمِ سامری فن بن گیا

رہ سکی ثابت نہ جوشِ حسن سے اس کی نقاب
چاک چاک ایسا ہوا پردہ کہ چلمن بن گیا

کشت ِ دل میں دیکھ تخمِ عشق کی بالیدگی
ہم تو قائل اس کے ہیں جو دانہ خرمن بن گیا

میرے مرنے سے کیا ظالم نے گو سامانِ عیش
پر لب مطرب پر آ کر نغمہ شیون بن گیا

ہاتھ اپنا چارہ گر اس کو لگا سکتا نہیں
دامنِ زخمِ جگر، مریم کا دامن بن گیا

ہاتھ ڈالے تھے گلے میں اُن کے ، میں نے خواب میں
کیا نزاکت کا نشان، طوقِ گردن بن گیا

ناتواں ایسا کیا ہے خوف نے صیاد کے
واسطے میرے رگِ گل کا نشیمن بن گیا

مستِ مے کل تک تُو مے خانے میں تھا اور آج داغ
داغ ِمے دامن سے دھوکر پاک دامن بن گیا

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer