شکاری جس جگہ مردہ پڑا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

شکاری جس جگہ مردہ پڑا تھا
وہ جنگل کا نشیبی راستہ تھا

ِادھر کھیتوں میں گیڈر رو رہے تھے
اُدھر باڑے میں کُتا بھونکتا تھا

تلاش اُس کو بھی کالے ریچھ کی تھی
مجھے بھی کوئی چیتا ڈھونڈنا تھا

اُسی کوئے کے بچے گم ہوئے تھے
جو اک چڑیا کے انڈے کھا گیا تھا

گھنے پیڑوں پہ بندر کُودتے تھے
کوئی خرگوش جھاڑی میں چھپا تھا

رفیق سندیلوی