ماتھوں پہ سینگ

Verses

ماتھوں پہ سینگ

وہ طلسم تھا جو تمام بستی پہ قہر تھا
کوئی زہر تھا جو رگوں میں سب کی اتر گیا
تو بکھر گیا وہ جو بوریوں میں اناج تھا
کوئی ڈاکو لوٹ کے لے گیا جو دلہن کا قیمتی داج تھا
وہ سماج تھا کہ سبھی کے دل میں یتیم ہونے کا خوف تھا
کوئی ضعف تھا کہ جو آنگنوں میں مقیم تھا
وہ رجیم تھاکہ تمام بستی پہ آگ تھا
کوئی راگ تھا جو سماعتوں پہ عذاب تھا
وہ عتاب تھا کہ سبھی کے ماتھوں پہ سینگ تھے
RAFIQ SANDEELVI