Verses

مَیں ہوُں تیرا کہ توُ شَیدا میرا
بس یہ جھگڑا رہا تیرا میرا

کیا یہ کچھ کم ہے، کہ دل توڑ کے بھی
توُ نے پندار نہ توڑا میرا

اِک تیرے حُسن سے نسبت کے طفیل
لوگ تکتے رہے چہرہ میرا

چاند ڈوُبا تو مَیں اُبھرا، لیکن
توُ نے رستہ ہی نہ دیکھا میرا

رو رہا ہوُں، مگر آنسو گم ہیں
میرا سینہ ہے کہ صحرا میرا

اپنی فطرت میں تو ساون ہوں، مگر
عمر بھر ابر نہ برسا میرا

زندہ ہونے کی ہوس لاکھوں میں
اور مصلوب مسیحا میرا

اِک خدا ہے کہ اُترتا ہی نہیں
حشر صدیوں سے ہے برپا میرا

سوُئے خورشید سفر جُرم نہیں
کیوں تعاقب میں ہے سایہ میرا

خُون میں ڈوُب کے، اے صُبحِ وطن
رنگ کیسا نِکھر آیا میرا

ہار جانا میری فطرت میں نہیں
رات اس کی ہے، ستارہ میرا

ڈُوبنا سِیکھ جو پانا ہے مجھے
میرے گہرائی، کنارا میرا

شعر ہوتے ہی، نِکل آتا ہے
آستیں سے یدِ بیضا میرا

دوست بھی چونک کے تکتے ہیں مجھے
میرا دشمن ہوُا چرچا میرا

مَیں تو مر جاؤں گا، لیکن یارو
کبھی آئے گا زمانہ میرا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer