مہرباں دوستوں کی عنائیتیں و نوازشیں

Verses

مہرباں دوستوں کی عنائیتیں و نوازشیں
سرمایہ حیات ہیں میرے لئیے

انکے میٹھے بول کانوں میں اب بھی رس گھو ہیں
نہ جانے کس دشمن کی نظر ہوئی ہماری دوستی کو
کہ دوست دوست نہ رہا
گھر گھر نہ رہا
بہن بہن نہ رہی
بھائی بھائی نہ رہا

سنو اے سماج کے ظالمو!
ان رشتوں کو نہیں توڑتے
تمھیں کیا خبر کہ تمھاری یہ موجودہ لغزشیں
کسی مخلص پر ایک توپ کی مانند گرتی ہیں

رشتوں کو نہیں توڑتے
گھر نہیں چھوڑتے
بناوٹی باتوں میں آکر تم حقائق کو نہ بھولو
یہ دنیا تم پر ہنسے گی سنو اے دوستو
واپس لوٹ آو، اور بزم سجا لو دلوں کی
سنو! پھر سنو!
اسکے بعد آواز نہیں دیجائے گی ، اس سے قبل کہ
یہ روح جس کے تم دشمن ہو پرواز کر جائے
واپس لوٹ آو

نئے عزائم پیدا کریں ، تمام نفرتیں دور کریں
شکستہ دلوں کی دیواروں کو پھر سے جوڑیں
سنو تم لوٹ آو، سنو بہنو یہ ناراضگی المیہ ہے

سنو لوٹ آو
کہ تمھارے ساتھ گزارے چند دن میرے لئیے
مشعل راہ ہیں ، روشنی ہیں ، سہارا ہیں
لوٹ آو ، میری فیملی کے دوستو لوٹ آو

شکیل اے چوھان ( نثری نظم)