میں رات کے بے درخت رستے پہ آ گیا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

میں رات کے بے درخت رستے پہ آ گیا تھا
مرا ستارہ زمیں کے نقطے پہ آ گیا تھا

لکھی تھی پانی کی موت میری۔اسی لئے تو
جہاز سے میں نکل کے عرشے پہ آ گیا تھا

بدل رہا تھا نظام ِ شمسی مدار ِ جاں میں
لہو کا خورشید ڈیڑھ نیزے پہ آ گیا تھا

مجھے ٹھکانہ نہیں ملا تھا کسی طبق پر
میں تھک کے خاکی بدن کے ٹیلے پہ آ گیا تھا

مری صدا گھوم کر عطارد پہ آ گئی تھی
اُبھر کے وہ بھی زحل کے پردے پہ آ گیا تھا

جمے ہوئے تھے مرے قدم آسماں کے سر پر
زمیں کا بوجھ میرے کندھے پہ آ گیا تھا
رفیق سندیلوی