نہ پوچھو ہم سے کہ وہ خورد سال کیا شے ہے

Verses

غزل
شفیق خلش

نہ پوچھو ہم سے کہ وہ خورد سال کیا شے ہے
کمر کے سامنے جس کی ہلال کیا شے ہے

حَسِین چیزکوئی کیا، جمال کیا شے ہے
خدا نے اُس کو بنایا کمال، کیا شے ہے

بنایا وہ یَدِ قدرت نے خاک سے پُتلا
خجِل ہوں حُورمقابل غزال کیا شے ہے

تمہارے حُسن سے، شاید مِرے تصور کو
کبھی خبر ہی نہیں ہو زوال کیا شے ہے

بتانا چاہیں بھی تو خاک ہم بتا نہ سکیں
وہ سَرْو قد، وہ خِراماں مثال کیا شے ہے

کہَیں جو وقت کو ہرایک زخم کا مرہم
اُنھیں خبر ہی نہیں ہے خیال کیا شے ہے

بتائیں کیا، کہ بنایا ہے اُس نے کاجل سے
نظر سے دل میں اُترتا جو خال، کیا شے ہے

ہے مشتِ خاک میں جاری وہ رقصِ بے ہنگام
مقابلے میں کہ جس کے دھمال کیا شے ہے

وہی ہیں ولولے دل میں خلش اوائل کے
غموں سے عشق میں ہونا نڈھال کیا شے ہے

شفیق خلش

Comments

طارق (not verified)

Tue, 01/14/2014 - 07:56

غزل
شفیق خلش

صد شُکر ریزہ ریزہ کا خدشہ نہیں رہا
دل ضبط و اعتبار میں خستہ نہیں رہا

کیا خُوب ، رہ سکوںگا نہ تیرے بغیر پل
افسوس جس پہ سچ کا بھی خدشہ نہیں رہا

باتوں سے تیری ذہن ہمارا بنائے پھر
ایسا اب ایک بھی کوئی نقشہ نہیں رہا

افسوس یوں نہیں ہمیں مال ومتاع کا
سوچیں ہماری جان کا صدقہ نہیں رہا

چھانی نہ جس کی خاک وفا کی تلاش میں
ایسا کوئی بھی شہر یا قصبہ نہیں رہا

پھر سے ہمارے دل میں مکیں بن کےآ رہو
ٹوٹے اب اس مکان کو رستہ نہیں رہا

جا تے ہیں اطمینان سے جانا جہاں بھی ہو
جب دل نہیں اثر میں تو رخنہ نہیں رہا

جوش و خروش عشق میں پہلا سا کب خلش
جب فیصلہ ہی تخت یا تختہ نہیں رہا

شفیق خلش