وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا/rafiq sandeelvi

Verses

وہ اپنے شہر واپس جا رہا تھا
میں اس کے سامنے گم صم کھڑا تھا

یکایک ریل کی سیٹی بجی تھی
مجھے اس نے خدا حافظ کہا

کھلی کھڑکی سے تا حد ِ بصارت
وہ اپنا ہاتھ لہراتا رہا تھا

سمٹ کر چھکڑے نقطہ بن گئے تھے
سٹیشن پر میں تنہا رہ گیا تھا

اندھیری رات کے پھیلے تھے سائے
میں تکیے سے لپٹ کر رو دیا تھا

رفیق سندیلوی