Verses

وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا، جدائی نہ تھی

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی

نہ اپنا رنج، نہ اپنا دکھ، نہ اوروں کا ملال
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی

بچھڑتے وقت، اُن آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ، جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی

کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer