Verses

وہ ہوئے مہربان دشمن پر
پھٹ پڑے آسمان دشمن پر

جان اس بے وفا کو ہم نے دی
جس کی جاتی ہے جان دشمن پر

اپنی پہچان کو قیامت میں
کیجئے کچھ نشان دشمن پر

بہت اچھی ہے آپ کی تلوار
کیجئے امتحان دشمن پر

لوگ کہتے ہیں کیا؟ سنو تو سہی
جھک پڑا اک جہان دشمن پر

کس کی محفل میں یہ ہوئی عزت
کیا برستی ہے شان دشمن پر

تم نے بھی کچھ سنا؟ کہ ہے چرچا
غش ہے اک نوجوان دشمن پر

اب برسنے لگے وہ ہم پر بھی
کھل گئی ہے زبان دشمن پر؟

داغ تم دل کو دوست سمجھے ہو
دوستی کا گمان دشمن پر؟

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer