چلو لکھتے ہیں کاغذ پر

Verses

چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کوئی حرفِ شناسائی
کوئی عنوان
افسردہ دنوں کی نارسائی کا
بیاضِ عمر کے صفحات پربے نور ہوتی روشنائی کا
کسی کی کج ادائی کا
بسر ہوتے ہوئے سالوں پہ انگشتِ شہادت سے
چلو کچھ نام لکھتے ہیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
بہت سی ان کہی باتیں
جنھیں پہلے نہیں لکھا
جنھیں پہلے نہیں سوچا
کہیں سے ڈھونڈ کر لائیں گزشتہ عمر کے منظر
جنھیں پہلے نہیں دیکھا
ذرا محسوس کر کے دیکھتے ہیں
پھر وہی شامیں
کہ جو راتوں کی نرمیلی ہوا سے گفتگو کر کے
نئی صبحوں کی دھیمی روشنی میں جذب ہوتی تھیں
ذرا جب حبس بڑھتا تھا
کہیں سے ابر اٹھتا تھا
کہیں بارش کی بوندوں سے
زمیں موسم اگاتی تھی
کہیں امرود کی شاخوںپہ چڑیاں شور کرتی تھیں
پھلوں سے پیٹ بھرتی تھیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کہ جب لکھنا نہ آتا تھا
تو پریوں کی کہانی سنتے سنتے
نیند کی سرسبز وادی میں
قدم رکھنا
ہواؤں میں پرندوں کی طرح اڑنا
پرستانوں میں جا کر تتلیوں سے گفتگو کرنا
بہت سے جادوئی منظر جگاتا تھا
ہمیں خود سے ملاتا تھا
پرانی صحبتیں برہم
سوادِ شہرِ جاں سے دور اک بستی ہے خوابوں کی
چلو پھر سے اسی بستی میں اپنی عمر کی تجدید کرتے ہیں
خود اپنی زندگی کے کینوس میں
رنگ بھرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ اسحٰق