Verses

کوئی تو محبت میں مجھے صبر ذرا دے
تیری تو مثل وہ ہے نہ میں دوں نہ خدا دے

بے جرم کرے قتل وہ قاتل ہے ہمارا
یہ شیوہ ہے اُس کا کہ خطا پر نہ سزا دے

دولت جو خدائی کی ملے کچھ نہیں پروا
بچھڑے ہوئے معشوق کو اللہ ملا دے

کرتا ہے رقیب اُن کی شکایت مرے آگے
ڈرتا ہوں کہ مِل کر نہ کہیں مجھ کو دغا دے

پھٹ جائے اگر دل تو کبھی مل نہیں سکتا
یہ چاک نہیں وہ جو کوئی سی کے ملا دے

تیرے تو برسنے سے ترستا ہے مرا دل
اے ابر کبھی میری لگی کو بھی بجھا دے

یہ دل کا لگانا تو نہیں جس سے ہو نفرت
تو بھی تو جنازے کو مرے ہاتھ لگا دے

ان جلوہ فروشوں سے تو سودا نہیں بنتا
جب مول نہ ٹھہرے ، کوئی کیا لے کوئی کیا دے

کیا کیا نہ کیا عشق میں ، اپنی سی بہت کی
تدبیر سے کیا ہو جسے تقدیر مٹا دے

میں وصل کا سائل ہوں، جھڑکنا نہیں اچھا
یا اور سے دلوا کسی محتاج کو یا دے

وہ لطف وہ احساں کر، اے چرخ مرے ساتھ
دوں میں بھی دعا تجھ کو مرا دل بھی دعا دے

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer