Ghazal

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں.

Verses

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں
ذات کا فقیر میں کیا کرنے چلا ہوں

لہو کو اپنی مٹھیوں میں بھرنے چلا ہوں
گلاب کو اسیر جو میں کرنے چلا ہوں

بلبل کو عقابوں کی نظر کرنے چلا ہوں
مجنوں ہوں میں پتھروں سے لڑنے چلا ہوں

آنکھوں پہ جام کے الزام دھرنے چلا ہوں
ساقی شراب کو حرام کرنے چلا ہوں

محبت کے شہر میں قیام کرنے چلا ہوں
دامن میں رتجگوں کے خار بھرنے چلا ہوں

یادوں کی آر دل میں یار گڑنے چلا ہوں
عشق ہوں میں سوئے دار بڑھنے چلا ہوں

ہوں داغ جدائی کا کہاں دھلنے چلا ہوں
رنگریز سے بے سود کہاں بھڑنے چلا ہوں

رستے کی خاک ہوں فلک کو بڑھنے چلا ہوں
جوہڑ کا ہی سہی کنول تو بننے چلا ہوں

ظلمت کے اندھیروں کو زیر کرنے چلا ہوں
بن کے امید کا دیا میں جلنے چلا ہوں

خلق ہوں خالق کو اله کرنے چلا ہوں
پتھر ہوں تو پتھر کو خدا کرنے چلا ہوں

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

Verses

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ
http://en.wikipedia.org/wiki/Tanwir_Phool

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

Verses

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی

Verses

حدیثِ عشق بھلا کیا کرے بیاں کوئی
نہیں فسانہ ء الفت کا رازداں کوئی
تڑپ سے برق کی ہوتا ہے صاف اب ظاہر
بنا ہے آج گلستاں میں آشیاں کوئی
مدھر سروں میں سنو آبشار کا نغمہ
سنا رہا ہے محبت کی داستاں کوئی
قفس میں بلبلِ شیریں نوا رہے کیونکر؟
نہ ہم سخن ہے وہاں اور نہ ہم زباں کوئی
گراں خزانہ ء خسرو سے جذبہ ء الفت
نہ اس سے بڑھ کے ملا گنجِ شائیگاں کوئی
جہاں پہ ہو نہ سکی حکم راں کبھی ظلمت
سیاہ رات میں اختر ہے ضوفشاں کوئی
چمن میں روز ہے کثرت سے آمدِ گل چیں
یہاں تو شاذ ہی آتا ہے باغ باں کوئی
جہاں میں آج بھی ہے راہِ کہکشاں موجود
نہ گامزن ہے مگر اس پہ کارواں کوئی
سنے جو پھولؔ کے اشعار، بول اٹھے غنچے
ہوا پھر آج ہے گلشن میں نغمہ خواں کوئی
(تنویرپھولؔ کے مجموعہ ء کلام "دھواں دھواں چہرے"مطبوعہ اپریل 1999 ء سے ماخوذ

Avval To Dil O Jaan Va Aakhir Jigar Gaya By Fassana

Verses

اول تو دل و جان و آخر جگر گیا
وہ ایک شخص لے کے میرا سارا زر گیا
*
فردا کی بات ہو کہ کوئ دی کا حادثہ
دل میں ہمارے درد کا خنجر اتر گیا
*
آءے وہ بے نقاب گلستان میں جوںہی
پہولوں کا رنگ انکو دیکھ کر نکھر گیا
*
پھرتا تھا تیرے کوچے میں ہر روز جو ساءل
ظالم! وہ تیرے جلوے کی حسرت میں مر گیا
*
پھرتے ہو ٹک اداس فسانہ جی کیا ہوا؟
وہ شوخیاں وہ جوشِ جوانی کدھر گیا؟

Naveed Ahmed Fassana

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں.

Verses

چاند کو زنجیر دیکھو کرنے چلا ہوں
ذات کا فقیر میں کیا کرنے چلا ہوں

لہو کو اپنی مٹھیوں میں بھرنے چلا ہوں
گلاب کو اسیر جو میں کرنے چلا ہوں

بلبل کو عقابوں کی نظر کرنے چلا ہوں
مجنوں ہوں میں پتھروں سے لڑنے چلا ہوں

آنکھوں پہ جام کے الزام دھرنے چلا ہوں
ساقی شراب کو حرام کرنے چلا ہوں

محبت کے شہر میں قیام کرنے چلا ہوں
دامن میں رتجگوں کے خار بھرنے چلا ہوں

یادوں کی آر دل میں یار گڑنے چلا ہوں
عشق ہوں میں سوئے دار بڑھنے چلا ہوں

ہوں داغ جدائی کا کہاں دھلنے چلا ہوں
رنگریز سے بے سود کہاں بھڑنے چلا ہوں

رستے کی خاک ہوں فلک کو بڑھنے چلا ہوں
جوہڑ کا ہی سہی کنول تو بننے چلا ہوں

ظلمت کے اندھیروں کو زیر کرنے چلا ہوں
بن کے امید کا دیا میں جلنے چلا ہوں

خلق ہوں خالق کو اله کرنے چلا ہوں
پتھر ہوں تو پتھر کو خدا کرنے چلا ہوں

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ -- شفیق خلش

Verses

غزل
شفیق خلش

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ
جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

ہو مثالوں میں نہ جو حُسنِ عجب بن جاؤ
کِس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ

آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش اِلحان
زندگی بھر کو مِری سازِ طرب بن جاؤ

رشک قسمت پہ مِری سارے زمانے کو رہے
ہمسفرتم جو لِئے اپنے یہ چھب بن جاؤ

میں نے چاہا تھا سرِصُبْحِ جوانی بھی یہی
تم ہی سانسوں کی مہک، دل کی طلب بن جاؤ

کچھ تو احساس چَھٹے دل سے اندھیروں کا مِرے
زیستِ تاریک کو اِک شمعِ شب بن جاؤ

دل میں رکھتا ہُوں محبّت کا خزانہ جاناں
چھوڑکرسارا جہاں میری ہی اب بن جاؤ

ذات قربت سے ہمیشہ ہی منوّر چاہوں
کب کہا اُس سے خلش رونقِ شب بن جاؤ

شفیق خلش

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

Verses

بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

ہم تم کو یوں آزمائيں گے کسی دن
بے موت ہی مر جائيں گے کسی دن

یوں تو آوارگی کا سفر جاری ہے
سوچا ہےگھر جائيں گے کسی دن

ہر قدم پر گناہ کرنے والے سن لیں
گھڑے پاپ کے بھر جائيں گے کسی دن

اگر ظالم تیری بے رخی جاری رہی
راہ میں تجھ سے بچھڑ جائيں گے کسی دن

گر دیکھنا ہے معجزہ محبت دنیا کو
سفینے ڈوبتے بھی ابھر جائيں گے کسی دن

عثمان کو آزمانے والے سن لیں اب
ہم ہر حد سے گزر جائيں گے کسی دن

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

Verses

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا

خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا

تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا

ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

Verses

ہر لمحہ تخیل کا حسیں ہوتا ہے

بھٹکا ہوا جنت میں مکیں ہوتا ہے

کیسے مانوں کہ ترے ساتھ تھا وہ آج
وہ تو ہر وقت مرے پاس یہیں ہوتا ہے

زمانے میں کوئی اس کا کلیہ ہی نہیں
بھا جائے جو دل کو وہ حسیں ہوتا ہے

مسکان بھی رہتی ہے سدا ہونٹوں پہ اور
ہر وقت ہی دکھ میرا قریں ہوتا ہے

بدلتے ہی خود مجھے آکر وہ ملے گا
دو جمع دو پانچ کہیں ہوتا ہے

اسی وقت ہی ہارا جو بلبل نے کہا یہ
گل دیکھ مرا خاک نشیں ہوتا ہے

حسن مٹی میں ملتا ہے سنا ہے یہ عمر
جانے اور کیا کیازیرِ زمیں ہوتا ہے