Abbas Tabish

عباس تابش

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں

Verses

اِسی لیے مرا سایہ مجھے گوارا نہیں
یہ میرا دوست ہے لیکن مرا سہارا نہیں

یہ مہر و ماہ بھی آخر کو ڈوب جاتے ہیں
ہمارے ساتھ کسی کا یہاں گذارا نہیں

ہر ایک لفظ نہیں تیرے نام میں شامل
ہر ایک لفظ محبت کا استعارہ نہیں

تمہی سے چلتے ہیں سب سلسلے تعلق کے
وہ اپنا کیسے بنے گا کہ جو ہمارا نہیں

اور اب برہنگی اپنی چھپاتا پھرتا ہوں
مرا خیال تھا میں خود پہ آشکارا نہیں

ابھی میں نشۂ لاحاصلی میں رہتا ہوں
ابھی یہ تلخئ دنیا مجھے گوارا نہیں

لیے تو پھرتا ہوں آنکھوں میں ناتمام سا نقش
اُسے مٹاؤں گا کیسے، جسے ابھارا نہیں

زمیں کا حُسن مکمل نہ ہو سکا تابش
کہیں چراغ نہیں ہے، کہیں ستارہ نہیں

کھلا مہتاب بھی ٹوٹے ہوئے دَر کے حوالے سے

Verses

کھلا مہتاب بھی ٹوٹے ہوئے دَر کے حوالے سے
سمجھتا ہوں میں اشیاء کو فقط گھر کے حوالے سے

مرے مایوس ہونے سے ذرا پہلے ہی لوٹ آنا
کہ میں بھی سوچتا ہوں اب مقدر کے حوالے سے

اگر سوچا کبھی میں نے تری قامت نگاری کا
حوالہ مختلف دوں گا صنوبر کے حوالے سے

کہ تجھ پر ختم تھا روئے سخن اپنی طرف کرنا
بتا کیا گفتگو کرتے گلِ تر کے حوالے سے

کئی چہرے بدل کر میں پہنچ پایا ہوں تیرے تک
مجھے پہچان میرے دیدہء تر کے حوالے سے

دلِ برباد اتنا بھی گیا گذرا نہیں تابش
یہ بستی جانی جاتی ہے اِسی گھر کے حوالے سے

وہ کون ہے جو پسِ چشمِ تر نہیں آتا

Verses

وہ کون ہے جو پسِ چشمِ تر نہیں آتا
سمجھ تو آتا ہے لیکن نظر نہیں آتا

اگر یہ تم ہو تو ثابت کرو کہ یہ تم ہو
گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا

یہ دل بھی کیسا شجر ہے کہ جس کی شاخوں پر
پرندے آتے ہیں لیکن ثمر نہیں آتا

یہ جمع خرچ زبانی ہے اُس کے بارے میں
کوئی بھی شخص اُسے دیکھ کر نہیں آتا

ہماری خاک پہ اندھی ہوا کا پہرہ ہے
اُسے خبر ہے یہاں کوزہ گر نہیں آتا

یہ بات سچ ہے کہ اُس کو بھلا دیا میں نے
مگر یقیں مجھے اِس بات پر نہیں آتا

نظر جمائے رکھوں گا میں چاند پر تابش
کہ جب تلک یہ پرندہ اتر نہیں آتا

دشتِ جنون و کوہِ ارادہ اٹھا لیا

Verses

دشتِ جنون و کوہِ ارادہ اٹھا لیا
سنبھلے گا کیسے بوجھ تو اتنا اٹھا لیا

اُس لب کے سارے پھول تو شاخوں نے لے لیے
اور میں نے اِک گِرا ہوا وعدہ اٹھا لیا

کیا کچھ نہیں تھا مالِ غنیمت کے طور پر
میں نے تو بس ایک طوقِ تمنا اٹھا لیا

شاید میں دل کو ضبط سے لبریز کر سکوں
خالی تھا، اِس لیے یہ پیالہ اٹھا لیا

انگارہ سی زمیں پہ پڑے ہی تھے دل کے پاؤں
تابش کسی نے بڑھ کے یہ بچہ اٹھا لیا

اِس جہاں میں عجب نہیں کُچھ بھی

Verses

اِس جہاں میں عجب نہیں کُچھ بھی
پہلے کیا کچھ تھا اب نہیں کُچھ بھی

پُھول کھلتا ہے شاخ سے باہر
خندہء زیرلب نہیں کُچھ بھی

مختصر یہ کہ اچھے لگتے ہو
چاہنے کا سبب نہیں کُچھ بھی

نامرادی کے دشت میں تابش
ڈھونڈتا کیا ہوں، جب نہیں کُچھ بھی

کون کہتا ہے کہ وہ بُھولتا جاتا ہے مُجھے

Verses

کون کہتا ہے کہ وہ بُھولتا جاتا ہے مُجھے
اپنا چہرہ نہ سہی، رہ تو دکھاتا ہے مُجھے

صُبح کے ساتھ میں کھو جاتا ہوں بچے کی طرح
شام ہوتے ہی کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مُجھے

آپ کچھ اور بتاتے ہیں مرے بارے میں
آئینہ اور کوئی شکل دکھاتا ہے مُجھے

آج اِک عُمر میں یہ بھید کُھلا ہے مُجھ پر
وہ کوئی اور نہیں ہے جو ڈراتا ہے مُجھے

سرد مہری میں یہ سورج بھی ہے تیرے جیسا
دُور ہی دُور سے جو دیکھتا جاتا ہے مُجھے

یہ نہ میں ہوں ، نہ ہوا ہے نہ قضا ہے تابش
میرے لہجے میں کوئی اور بلاتا ہے مُجھے

شام کا بُھولا ہوا وقتِ سحر آ جائے گا

Verses

شام کا بُھولا ہوا وقتِ سحر آ جائے گا
وہ بھی سورج کی طرح کل لوٹ کر آ جائے گا

اِس قدر شفاف کر دے گی یہ تنہائی مجھے
دیکھنے والوں کو تُو مجھ میں نظر آ جائے گا

اِس لیے ڈھلنے نہیں دیتا تری قربت کا دن
زندگی میں وقفۂ شام و سحر آ جائے گا

پاشکستوں کا بھرم رکھیں گی کب تک کشتیاں
پانیوں کے بعد خُشکی کا سفر آ جائے گا

زندہ رہنا ہے کسی کے بعد سو تابش مجھے
اِک نہ اِک دن زندہ رہنے کا ہنر آ جائے گا

بوئے موجود سے موہوم اشارے تک ہے

Verses

بوئے موجود سے موہوم اشارے تک ہے
میری حیرت کسی ڈوبے ہوئے تارے تک ہے

ہم نے اِک عمر ترے دھیان میں رہ کر دیکھا
یہ سمندر بھی کسی اور کنارے تک ہے

تجھ مہک کو نہ ملا کوئی اور ہواؤں جیسا
ایک ہم ہیں، سو تری بات ہمارے تک ہے

میری نظروں میں ہے خس خانۂ عالم جو بھی
سب تری نیم نگاہی کے اشارے تک ہے

پہلے ہم ناز آٹھاتے تھے بہت اِس دل کے
لیکن اب اِس کی کفالت بھی گذارے تک ہے

دھندلی سمتوں میں اگر کُونج کا پَر مل جائے

Verses

دھندلی سمتوں میں اگر کُونج کا پَر مل جائے
پھر تو اے دربدری مجھ کو بھی گھر مل جائے

اور ہی رنگ میں ہو برگ و ثمر کا ہونا
جس کی خواہش ہے مجھے وہ بھی اگر مل جائے

منتظر جس کا ہوں، وہ آئے ضروری تو نہیں
یہ بھی ممکن ہے کوئی اور خبر مل جائے

اہتمام ایسا ہو فرصت کے دنوں میں دل کا
ایک ڈر ختم ہو اور دوسرا ڈر مل جائے

اِس طرح سے نہ گذاروں گا یقینآ تجھ کو
زندگی تُو جو مجھے بارِ دگر مل جائے

طلوعِ ہجر کی بستی میں چاند سا نکلے

Verses

طلوعِ ہجر کی بستی میں چاند سا نکلے
کبھی تو گھر سے مرا یار کم نما نکلے

میں کیا کروں کہ مجھے بولنے کی عادت ہے
خدا کرئے نہ مرے دل سے مدعا نکلے

یہ دل کہ ڈوبنے لگتا ہے دیکھ کر اس کو
یہ ناؤ ساحلِ رسوائی پر نہ جا نکلے

بلند ہو کے بھی پہنچے نہ آسمانوں تک
یہاں کے سارے شجر دستِ بے دعا نکلے