عبدالحمید عدم

کل کہیں تجھ سے بھی اچھا ترا بیمار نہ ہو

Verses

کل کہیں تجھ سے بھی اچھا ترا بیمار نہ ہو
اتنے سنگین تغافل کا گنہ گار نہ ہو

زندگی میں بھی سکوں ڈھونڈتے ہو دیوانو
زندگی کیا ہے جو چلتی ہوئی تلوار نہ ہو

آپ کی بات کے مفہوم کئی ہوتے ہیں
آپ کی ہاں کہیں ہم معنئ انکار نہ ہو

رات تو نصف سے زائد ہے مگر ڈر یہ ہے
اس گئے وقت بھی درباں کہیں بیدار نہ ہو

برہمی میں جو حلاوت ہے سجاوٹ میں کہاں
زلف ہی کیا ہے جو آشفتہ و خم دار نہ ہو

شمع میں کیا ہے جو دیتا ہے پتنگے کو فریب

اس کے پردے میں ترا شعلۂ رخسار نہ ہو

خلق رک جائے گی ناگاہ تماشے کے لئے

مجھ سے اس درجہ خفا برسر بازار نہ ہو

دل کو لے آتا ہوں بازار سے واپس ہر روز

اس طرح کا بھی عدم قحط خریدار نہ ہو

اگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میں

Verses

اگرچہ تیری نظر کا ہی ترجماں ہوں میں
تری نگاہ سے لیکن ابھی نہاں ہوں میں

ابھی فسانے کی گہرائی تک نہیں پہنچا
ہنوز کشتۂ عنوان داستاں ہوں میں

ابھی میں اپنے ڈگر پر دھروں قدم کیسے
مجھے یہ علم ہے، ہمراہ کارواں ہوں میں

میں ہوں ضرور کہیں تیری بزم میں لیکن
تلاش کرکے تو خود ہی بتا کہاں ہوں میں

بٹھا لیا مجھے آنکھوں پہ اس کی رحمت نے
مجھے گماں تھا کہ اک جنس رائگاں ہوں میں

یہ کیا مقام ہے پندار خود شناسی کا
ہر ایک قطرہ یہ کہتا ہے بیکراں ہوں میں

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں

Verses

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں

تیری محفل میں بیٹھنے والے
کتنے روشن ضمیر ہوتے ہیں

پھول دامن میں چند رکھ لیجئے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں

زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے

Verses

اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
دل کی آہٹ سے تری آواز آتی ہے مجھے

جھاڑ کر گردِ غمِ ہستی کو اڑ جاؤں گا میں
بے خبر ایسی بھی اِک پرواز آتی ہے مجھے

یا سماعت کا بھرم ہے یا کِسی نغمے کی گونج
ایک پہچانی ہوئی آواز آتی ہے مجھے

کِس نے کھولا ہے ہوا میں گیسوؤں کو ناز سے
نرم رو برسات کی آواز آتی ہے مجھے

اُس کی نازک انگلیوں کو دیکھ کر اکثر عدم
ایک ہلکی سی صدائے ساز آتی ہے مجھے

میکدہ تھا، چاندنی تھی، میں نہ تھا

Verses

میکدہ تھا، چاندنی تھی، میں نہ تھا
ایک مجسم بےخودی تھی، میں نہ تھا

عشق جب دم تورتا تھا، تم نہ تھے
موت جب سر دھُن رہی تھی میں نہ تھا

طُور پر چھیڑا تھا جس نے آپ کو
وہ میری دیوانگی تھی، میں نہ تھا

میکدے کے موڑ پر رکتی ہوئی
مدّتوں کی تشنگی تھی، میں نہ تھا

میں اور غنچہ دہن کی آرزو!!
آرزو کی سادگی تھی، میں نہ تھا

گیسوؤں کے سایے میں آرام کش
سر برہنہ زندگی تھی، میں نہ تھا

دیرو کعبہ میں عدم حیرت فروش
دو جہاں کی بد ذنی تھی میں نہ تھا

اس کی پائل اگر چھنک جائے

Verses

اس کی پائل اگر چھنک جائے
گردشِ آسماں ٹھٹھک جائے

اس کے ہنسنے کی کیفیت ، توبہ!
جیسے بجلی چمک چمک جائے

اس کے سینے کا زیرو بم ، توبہ!
دیوتاؤں کا دل دھڑک جائے

لے اگر جھوم کر وہ انگڑائی
زندگی دار پر اٹک جائے

ایسے بھر پور ہے بدن اس کا
جیسے ساون کا آم پک جائے

ہائے اس مہ جبیں کی یاد عدم
جیسے سینے میں دم اٹک جائے

یوں جستجوئے یار میں آنکھوں کے بل گئے

Verses

یوں جستجوئے یار میں آنکھوں کے بل گئے
ہم کوئے یار سے بھی کچھ آگے نکل گئے

واقف تھے تیری چشمِ تغافل پسند سے
وہ رنگ جو بہار کے سانچے میں ڈھل گئے

اے شمع! اُن پتنگوں کی تجھ کو کہاں خبر
جو اپنے اشتیاق کی گرمی سے جل گئے

وہ بھی تو زندگی کے ارادوں میں تھے شریک
جو حادثات تیری مروّت سے ٹل گئے

جب بھی وہ مسکرا کے ملے ہم سے اے عدم
دونوں جہان فرطِ رقابت سے جل گئے

آگہی میں اک خلا موجود ہے

Verses

آگہی میں اک خلا موجود ہے
اس کا مطلب ہے خدا موجود ہے

ہے یقیناً کچھ مگر واضح نہیں
آپ کی آنکھوں میں کیا موجود ہے

بانکپن میں اور کوئی شے نہیں
سادگی کی انتہا موجود ہے

ہر محبت کی بنا ہے چاشنی
ہر لگن میں مدعا موجود ہے

ہر جگہ ہر شہر ہر اقلیم میں
دھُوم ہے اس کی ، جو نا موجود ہے

جس سے چھپنا چاہتا ہوں میں عدم
وہ ستمگر جا بجا موجود ہے

تہی بھی ہوں تو پیمانے حسیں معلوم ہوتے ہیں

Verses

تہی بھی ہوں تو پیمانے حسیں معلوم ہوتے ہیں
حقائق سے تو افسانے حسیں معلوم ہوتے ہیں

ملاقاتیں مسلسل ہوں تو دلچسپی نہیں رہتی
بے بے ترتیب یارانے حسیں معلوم ہوتے ہیں

جوانی نام ہے اک خوبصورت موت کا ساقی
بھڑک اٹھیں تو پروانے حسیں معلوم ہوتے ہیں

وہ مے کش تیری آنکھوں کی حکایت سن کے آیا ہے
جسے ہر وقت پیمانے حسیں معلوم ہوتے ہیں

اداسی بھی عدم احساسِ غم کی ایک دولت ہے
بسا اوقات ویرانے حسیں معلوم ہوتے ہیں

غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا

Verses

غم کا غبار آنکھ میں ایسے سما گیا
ہر منظرِ حسیں پہ دھندلکا سا چھا گیا

دل میں مکیں تھا کوئی تو جلتے رہے چراغ
جاتے ہوئے وہ شوخ انہیں بھی بجھا گیا

دل تھا، مسرتیں تھیں، جوانی تھی، شوق تھا
لیکن غمِ زمانہ ہر اک شئے کو کھا گیا

برباد دل میں جوشِ تمنا کا دم نہ پوچھ
صحرا میں جیسے کوئی بگولے اڑا گیا

کچھ سوچ کر ہمارے گریباں کی وضع پر
عہدِ بہار جاتے ہوئے مسکرا گیا

دل کا ہجومِ غم سے عدم اب یہ حال ہے
دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer