جب دل کی راہ گذر پر نقشِ پا نہ تھا

Verses

جب دل کی راہ گذر پر نقشِ پا نہ تھا
جینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھا

آگے حریم سے کوئی راستہ نہ تھا
اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا

دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا
ورنہ نگاہ و دل میں کوئی فاصلہ نہ تھا

کچھ لوگ شرمسار ، خداجانے کیوں ہوئے
ان سے تو روحِ عصر، ہمیں کچھ گلہ نہ تھا

جلتے رہے خیال، برستی رہی گھٹا
ہاں ناز آگہی تجھے کیا کچھ روا نہ تھا

سنسان دوپہر ہے، بڑا جی اداس ہے
کہنے کو ساتھ ساتھ ہمارے زمانہ تھا

ہر آرزو کا نام نہیں آبروئے جاں
ہر تشنہ لب جمال رخ ِ کربلا نہ تھا

آندھی میں برگِ گل کی زباں سے ادا ہوا
وہ راز جوکسی سے ابھی تک کہا نہ تھا

کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیں

Verses

کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیں
اک رسمِ وفا تھی سو وفادار بہت ہیں

لہجے کی کھنک ہو کہ نگاہوں کی صداقت
یوسف کے لیۓ مصر کے بازار بہت ہیں

کچھ زخم کی رنگ میں گل تر کی قریں تھے
کچھ نقش کہ ہیں نقش بہ دیوار، بہت ہیں

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا
رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں

اک خواب کا احساں بھی اٹھائے نہیں اٹھتا
کیا کہیے کہ آسودہء آزار بہت ہیں

کیوں اہلِ وفا ! زحمت بیداد نگاہی
جینے کے لیۓ اور بھی آزار بہت ہیں

ہر جذبہ بے تاب کے احکام ہزاروں
ہر لمحہ بے خواب کے اصرار بہت ہیں

پلکوں تلک آ پہنچے نہ کرنوں کی تمازت
اب تک تو ادا آئینہ بردار بہت ہیں

ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے

Verses

ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے

کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی
جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے

خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا
پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے

سونپی گئی ہر دولتِ بیدار اسی کو
یہ دل جو ہمیں آج بھی ناداں سا لگے ہے

آنچل کا جو تھا رنگ وہ پلکوں پہ رچا ہے
صحرا میری آنکھوں کو گلستاں سا لگے ہے

پندار نے ہر بار نیا دیپ جلایا
جو چوٹ بھی کھائی ہے وہ احساں سا لگے ہے

ہر عہد نے لکھی ہے میرے غم کی کہانی
ہر شہر میرے خواب کا عنواں سا لگے ہے

تجھ کو بھی ادا جرأتِ گفتار ملی ہے
تو بھی تو مجھے حرفِ پریشاں سا لگے ہے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے

Verses

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے

لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنا
مقدور نہیں صبح ، چلو شام ہی آئے

کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس راہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبہء ناکام ہی آئے

باقی نہ رہے ساکھ ادا دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشہء انجام ہی آئے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer