Bashir Badr

Bashir Badr (1945)

ہم لوگ سوچتے ہیں ہمیں کچھ ملا نہیں

Verses

ہم لوگ سوچتے ہیں ہمیں کچھ ملا نہیں
شہروں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں

اک چہرہ ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
کس کو تلاش کرتے رہے کچھ پتا نہیں

شدت کی دھوپ تیز ہواؤں کے باوجود
میں شاخ سے گرا ہوں نظروں سے گرا نہیں

آخر غزل کا تاج محل بھی ہے مقبرا
ہم زندگی تھے ہم کو کسی نے جیا نہیں

جس کی مخالفت ہوئی مشہور ہو گیا
ان پتھروں سے کوئی پرندہ گرا نہیں

تاریکیوں میں اور چمکتی ہے دل کی دھوپ
سورج تمام رات یہاں ڈوبتا نہیں

جس نے جلائیں بستیاں بازار کیوں لئے
میں چاند پر گیا تھا مجھے کچھ پتا نہیں

بشیر بدر

میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا

Verses

میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا
تمھارا فیصلہ تھا، یاد ہو گا

بہت سے اُجلے اُجلے پُھول لے کر
کوئی تم سے ملا تھا ،یا د ہو گا

بچھی تھی ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
کوئی آنسو گرا تھا، یاد ہو گا

اُداسی اور بڑھتی جا رہی تھی
وہ چَہرہ بُجھ رہا تھا، یاد ہو گا

وہ خط پاگل ہوا آنچلوں پر
کِسے تم نے لکھا تھا، یاد ہو گا

بشیر بدر

وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے

Verses

وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے
جو کسی بات پر اڑے ہوں گے

پالنوں میں کہیں پڑے ہوں گے
کل جو سورج بہت بڑے ہوں گے

اب نئے ذہن اور آئیں گے
امتحانات بھی کڑے ہوں گے

تاجداروں کے سر چڑھے ہیرے
آج پاپوش میں جڑے ہوں گے

ایک چھوٹے سے سائبان کے لیے
عمربھر دھوپ سے لڑے ہوں گے

میں اٹھا کر لفظ بنادوں گا
لفظ جتنے گرے پڑے ہوں گے

سات رنگوں کے سات تاج محل
ایک دیوار میں جڑے ہوں گے

دھوپ کب تک مجھے ستائے گی
کل میرے پیڑ بھی بڑے ہوں گے

کتنے لہجے بشیر بدر ہوئے
اپنے پیروں پہ کب کھڑے ہوں گے

وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں

Verses

وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں بچیّاں نہ ہوں

پلکوں سے آنسوؤں کی مہک آنی چاہیئے
خالی ہے آسمان اگر بدلیاں نہ ہوں

دشمن کو بھی خدا کبھی ایسا مکاں نہ دے
تازہ ہوا کی جس میں کہیں کھڑکیاں نہ ہوں

میں پوچھتا ہوں وہ میری گلی میں آئے کیوں
جس ڈاکیے کے پاس تیری چٹھیّاں نہ ہوں

رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے

Verses

رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پہ جگنو آئے
ہم ہواؤں کی طرح جاکے اسےچھو آئے

اس کا دل دل نہیں پتھر کا کلیجہ ہوگا
جس کو پھولوں کا ہنر آنسو کا جادو آئے

بس گئی ہےمرےاحساس میں یہ کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے

خوبصورت ہیں بہت دنیاکے جھوٹے وعدے
پھول کاغذ کےلیے کانچ کے بازو آئے

اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انساں کیا
مدتوں بعد میری آنکھوں میں آنسو آئے

عجب موسم ہے میرےہر قدم پہ پھول رکھتا ہے

Verses

عجب موسم ہے میرےہر قدم پہ پھول رکھتا ہے
محبت میں محبت کا فرشتہ ساتھ چلتا ہے

ہر آنسو میں کوئی تصویر اکثر جھلملاتی ہے
تمہیں آنکھیں بتائیں گی دیئوں میں کون جلتا ہے

میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
یقیں آجائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بڑا ہو کر کہیں مندر کہیں مسجد بنائے گا
یہ بچہ دیکھنا سکول جانے سے بھی ڈرتا ہے

بہت سے کام رُک جاتے ہیں میں باہر نہیں جاتا
تمہاری یاد کا لمحہ کہاں نالے سےٹلتا ہے

محبت غم کی بارش ہے زمیں سرسبز ہوتی ہے
بہت سے پھول کھلتے ہیں جہاں بادل برستا ہے

میں‌ کب کہتا ہوں کہ وہ اچھا بہت ہے

Verses

میں‌ کب کہتا ہوں کہ وہ اچھا بہت ہے
مگر اس نے مجھے چاہا بہت ہے

خدا اس شہر کو محفوظ رکھے
یہ بچوں کی طرح ہنستا بہت ہے

میں ہر لمحے میں صدیاں‌دیکھتا ہوں
تمہارے ساتھ اک لمحہ بہت ہے

میرا دل بارشوں میں پھول جیسا
یہ بچہ رات میں روتا بہت ہے

وہ اب لاکھوں دلوں‌سے کھیلتا ہے
مجھے پہچان لے اتنا بہت ہے

اس در کا دربان بنادے یااللہ

Verses

اس در کا دربان بنادے یااللہ
مجھ کو بھی سُلطان بنادے یا اللہ

اُن آنکھوں سے تیرے نام کی بارش ہو
پتھر ہوں انسان بنادے یااللہ

سہما دل ، ٹوٹی کشتی ، چڑھتا دریا
ہر مُشکل آسَان بنادے یا اللہ

میں جب چاہو ں جھانک کےتجھ کو دیکھ سکوں
دل کو روشن دان بنادے یااللہ

میرا بچہ سادہ کاغذجیسا ہے
اک حرفِ ایمان بنادے یااللہ

تھا میرجن کو شعر کا آزار مرگئے

Verses

تھا میرجن کو شعر کا آزار مرگئے
غالب تمہارے سارے طرفدار مرگئے

جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں
احساس کے نئے نئے اظہار مرگئے

تشبیہہ و ا ستعار ہ ور مزو کنایہ کیا
پِیکر تراش شعر کے فنکار مرگئے

ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی
کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مرگئے

تقدیسِ دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی
شَاید غزل کے سارے گناہ گار مرگئے

شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے
اُردو غزل میں جتنے تھے کفّار مرگئے

اخبار ہورہی ہے غزل کی زبان اب
اپنے شہید آٹھ ،اُدھر چار مرگئے

مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کردیا
گیتوں کے پختہ کار گلوکار مرگئے

اسلوب تحت اتنا گرجدار ہوگیا
مہدی حسن کے حاشیہ بردار مرگئے

تنقیدی اصطلاحوں کے مشتاق شہ سوار
گھوڑوں پہ دوڑے آئے سردار مرگئے

ناز و ادا سے مچھلیاں اب ہیں غزل سرا
تہمد پکڑ کت صاحبِ دستار مرگئے

یا رب طلسمِ ہو ش رہا ہے مُشَاعرہ
جن کو نہیں بُلایا، وہ غم خوار مرگئے

جو دُکھ سُکھ بانٹ سکے ،ہم اس کو عورت کہتے ہیں

Verses

جو دُکھ سُکھ بانٹ سکے ،ہم اس کو عورت کہتے ہیں
ورنہ ہر اچھی صورت کو پتھر کی مورت کہتے ہیں

یہ رام جنم بھومی کا لہو، یہ بابری مسجد کی لاشیں
تم اُن کو مذہب کہتے ہو، ہم وحشی سَیاست کہتے ہیں

اس ملک میں ہندو ، مسلم، سکھ، سب پاگل ہوتے جاتے ہیں
ملّا ، پنڈت، نیتا اس کو اللہ کی رحمت کہتے ہیں

دُنیا کے اُجلے کرُتے سے ہم نے تو جوتے پونچھ لیے
وہ شاعر ہیں جورُسوائی کو اپنی شہرت کہتے ہیں