Gulzar

Gulzar (1936)

anjame ashqi

Verses

اک پل میں اک صدی کا مزہ ھم سے پوچھیے
دو دن کی زندگی کا مزہ ھم سے پوچھیے
بھول رھے ھیں انھیں رفتہ رفتہ مدتوں میں ھم
قسطوں میں خودکشی کا مزہ ھم سے پوچھیے
وہ جان ھی گئے کے ھمیں ان سے پیار ھے
آنکھوں کی مخبری کا پتہ ھم سے پوچھیے
آغاز عاشقی کا مزہ آپ جانئے
انجامے عاشقی کا مزہ ھم سے پوچھیے

Hum na tum ko bhula saky 313.2417039

Verses

Muhabat ka “IRADA” badal jana B mushkil hai

unhy “KHONA” B mushkil hai

unhy “PANA” B mushkil hai

zara c bat pe ankhen “BHIGO” k beth jaty ho

unhy to apny dil ka “HAAL” batana B mushkil hai

udasi un k chehry pe “GAWARA” B nahi lekin

unki khatir “SITARY” tor k lana B mushkil hai
******* moon sha********8
yaha logo ne khud per itny “PARDY” dal rakhy hain

kisi k dil me kia hai “NAZAR” aana B mushkil hai

mana k khuwab me “MULAQAT” hogi unse, WASI..

per un k bin “NEEND” aana B mushkil hai

Çadır denince ilk aklıma , serseri bir tatil gelir. Hemen hemen herkesin özgürce bir tatil denince aklına gelecek de Çadırdır eminim.
Ancak ne kadar güvenilirdir bir Çadır tatili? Sanırım son moda Çadırlar bu endişeye yer bırakmayacak tarzda yapılmakta ve tüketicisini tatmin etmektedir. Dağlık alana özgü yada düz alanlara özgü sıcaklığı ayarlanabilen Çadırlar oldukça işlevsel olabilmektedir.

خمار غم ہے، مہکتی فضا میں جیتے ہیں

Verses

خمار غم ہے، مہکتی فضا میں جیتے ہیں
تیرے خیال کی آب و ہوا میں جیتے ہیں

فراق ِیار میں سانسوں کو روکے رکھتے ہیں
ہر ایک لمحہ گزرتی قضا میں جیتے ہیں

نہ بات پوری ہوئی تھی کہ رات ٹوٹ گئی
ادھورے خواب کی آدھی سزا میں جیتے ہیں

بڑے تپاک سے ملتے ہیں ملنے والے مجھے
وہ میرے دوست ہیں، تیری وفا میں جیتے ہیں

تمہاری باتوں میں کوئی مسیحا بستا ہے
حسیں لبوں سے برستی شفا میں جیتے ہیں

دن کچھ ایسے گذارتا ھے کوئی

Verses

دن کچھ ایسے گذارتا ھے کوئی
جیسے احساں اتارتا ھے کوئی

آئینہ دیکھ کر تسلی ھوئی
ھم کو اس گھر میں جانتا ھے کوئی

دل میں کچھ یوں سنبھالتا ھوں غم
جیسے زیور سنبھالتا ھے کوئی

پک گیا ھے شجر پہ پھل شاید
پھر سے پتھر اچھالتا ھے کوئی

دیر سے گونجتے ہیں سناٹے
جیسے ھم کو پکارتا ھے کوئی

تنکا تنکا کانٹے توڑے ، ساری رات کٹائی کی

Verses

تنکا تنکا کانٹے توڑے ، ساری رات کٹائی کی
کیوں اتنی لمبی ہو تی ہے، چاندنی رات جُدائی کی

نیند میں کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے
کال کنویں میں گونجتی ہے، آواز کسی سودائی کی

سینے میں دِل کی آہٹ، جیسے کوئی جاسوس چلے
ہر سائے کا پیچھا کرنا، عادت ہے ہرجائی کی

آنکھوں اور کانوں میں سنا ٹے سے بھر جاتے ہیں
کیا تم نے اُڑتی دیکھی ہے، ریت کبھی تنہائی کی

تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی
ساہو نے گروی رکھ لی تھی میری رات کٹائی کی

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

Verses

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے
وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے

جس کی آواز میں سِلوٹ ہو، نگاہوں میں شکن
ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے

لگ کے ساحل سے جوبہتا ہے اُسے بہنے دو
ایسے دریا کا کبھی رُخ نہیں موڑا کرتے

جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں
اس طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے

شہد جینے کا مِلا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا
جانے والوں کیلئے دِل نہیں تھوڑا کرتے

جمع ہم ہوتے ہیں ، تقیسم بھی ہوجاتے ہیں
ہم تو تفریق کے ہندسے نہیں جوڑا کرتے

جاکے کہسار سے سرمارو کہ آواز تو ہو
خستہ دِیواروں سے ماتھا نہیں پھوڑا کرتے

جب سے قریب ہوکے چلے زندگی سے ہم

Verses

جب سے قریب ہوکے چلے زندگی سے ہم
خود اپنے آئینے کو لگے اجنبی سے ہم

وہ کون ہے جو پاس بھی ہے اور دور بھی
ہر لمحہ مانگتے ہیں کسی کو کسی سے ہم

احساس یہ بھی کم نہیں جینے کے واسطے
ہر درد جی رہے ہیں تمہاری خوشی سے ہم

کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگے
ملنے گئے کسی سے ،مل آئے کسی سے ہم

کس موڑ پر حیات نے پہنچا دیا ہمیں!!
ناراض ہیں غموں سے نہ خوش ہیں خوشی سے ہم

آنکھوں کو دے کے روشنی گل کردیئے چراغ
تنگ آچکے ہیں وقت کی اس دل لگی سے ہم

اچھے برے کے فرق نے بستی اجاڑ دی
مجبور ہوکے ملنے لگے ہر کسی سے ہم

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

Verses

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے

دفن کردو ہمیں کہ سانس ملے
نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے

کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں
برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر
اس کی عادت بھی آدمی سی ہے

کوئی رشتہ نہیں رہا پھر بھی
ایک تسلیم لازمی سی ہے

آئیے راستے الگ کر لیں
یہ ضرورت بھی باہمی سی ہے

کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں

Verses

کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں
ہوا چلے نہ چلے، دن پلٹتے رہتے ہیں

بس ایک وحشتِ منزل ہے اور کچھ بھی نہیں
کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اُترتے رہتے ہیں

مجھے تو روز کسوٹی پہ دَرد کستا ہے
کہ جاں سے جسم کے بخیے اُدھڑتے رہتے ہیں

کبھی رُکا نہیں کوئی مقام صحرا میں
کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں

یہ روٹیاں ہیں، یہ سِکّے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دُوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں
اُجا لا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں