Shakeeb Jalali

شکیب جلالی

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

Verses

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر

آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا

Verses

کچھ روز میں اس خاک کے پردے میں رہوں گا
پھر دُور کسی نور کے ہالے میں رہوں گا

رکھوں گا کبھی دھوپ کی چوٹی پہ رہائش
پانی کی طرح ابر کے ٹکڑے میں رہوں گا

یہ شب بھی گزر جائے گی تاروں سے بچھڑ کر
یہ شب بھی میں کہسار کے درے میں رہوں گا

سورج کی طرح موت مرے سر پہ رہے گی
میں شام تلک جان کے خطرے میں رہوں گا

اُبھرے گی مرے ذہن کے خلیوں سے نئی شکل
کب تک میں کسی برف کے ملبے میں رہوں گا

RAFIQ SANDEELVI

غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا

Verses

غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا
سیلِ غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے
جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا
کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں
ہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا
دشت بھی اس کے مکیں، شہر بھی اس سے آباد
تو جہاں آن بسے، دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا
تو وہی ہے جو مرے دل میں چھپا بیٹھا ہے
اک یہی راز کبھی مجھ پہ عیاں کیوں نہ ہوا
یہ سمجھتے ہوۓ مقصودِ نظر ہے تو ہی
میں ترے حسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہوا
اس سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جاۓ
تجھ کو پا لینے کا ارمان جواں کیوں نہ ہوا
تپتے صحرا تو مری منزلِ مقصود نہ تھے
میں کہیں ہم سفرِ ابرِ رواں کیوں نہ ہوا
اجنبی پر تو یہاں لطف سوا ہوتا ہے
میں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہوا
نارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو شکیب
حائلِ راہ کوئی سنگِ گراں کیوں نہ ہوا

غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں

Verses

غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں
جو کناروں میں سمٹ جاۓ وہ دریا ہی نہیں
اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے
سب کا اس دور میں یہ حال ہے، میرا ہی نہیں
برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے
مَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں
اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا
کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینا ہی نہیں
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آۓ شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں
بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اُٹھاۓ گزرا
کوئی اس شہر میں سُستانے کو ٹھہرا ہی نہیں
سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم
تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں
موتی کیا کیا نہ پڑے ہیں تہِ دریا لیکن
برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں
اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے
خانۂ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں
حائلِ راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پر بت
تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں
یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیب
اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں

موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے

Verses

موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے
اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا
آئنہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے
کتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے
اک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے
پیار کی جو سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ
اک بھی شمع نہ روشن ہو ہوا کے ڈر سے
اڑتے بادل کے تعاقب میں پھرو گے کب تک
درد کی دھوپ میں نکلا نہیں کرتے گھر سے
کتنی رعنائیاں آباد ہیں میرے دل میں
اک خرابہ نظرآتا ہے مگر باہر سے
وادیِ خواب میں اس گل کا گزر کیوں نہ ہوا
رات بھر آتی رہی جس کی مہک بستر سے
طعنِ اغیار سنیں آپ خموشی سے شکیب
خود پلٹ جاتی ہے ٹکرا کے صدا پتھر سے

دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک

Verses

دل میں لرزاں ہے ترا شعلۂ رخسار اب تک
میری منزل میں نہیں رات کے آثار اب تک
پھول مُرجھا گئے، گُلدان بھی گِر کر ٹوٹا
کیسی خوشبو میں بسے ہیں در و دیوار اب تک
حسرتِ دادِ نہاں ہے مرے دل میں شاید
یاد آتی ہے مجھے قامتِ دلدار اب تک
وہ اُجالے کا کوئی سیلِ رواں تھا، کیا تھا؟
میری آنکھوں میں ہے اک ساعتِ دیدار اب تک
تیشۂ غم سے ہوئی روح تو ٹکڑے ٹکڑے
کیوں سلامت ہے مرے جسم کی دیوار اب تک

وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا

Verses

وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ رینگنے لگی کشتی وہ بادبان کھلا
مرے ہی کان میں سرگوشیاں سکوت نے کیں
مرے سوا کبھی کس سے یہ بے زبان کھلا
سمجھ رہا تھا ستارے جنہیں وہ آنکھیں ہیں
مری طرف نگران ہیں کئی جہان کھلا
مرا خزانہ ہے محفوظ میرے سینے میں
میں سو رہوں گا یونہی چھوڑ کر مکان کھلا
ہر آن میرا نیا رنگ ہے نیا چہرہ
وہ بھید ہوں جو کسی سے نہ میری جان کھلا
جزا کہیں کہ سزر اس کو بال و پر والے
زمیں سکڑتی گئی، جتنا آسمان کھلا
لہو لہو ہوں سلاخوں سے سر کو ٹکرا کر
شکیب بابِ قفس کیا کہوں کس آن کھلا

کس طرح ریت کے سمندر میں

Verses

کس طرح ریت کے سمندر میں
کشتیِ زیست ہے رواں، سوچو
سن کے بادِ صبا کی سرگوشی
کیوں لرزتی ہیں پتیاں۔۔، سوچو
پتھروں کی پناہ میں کیوں ہے
آئینہ ساز کی دوکاں، سوچو
اصل سر چشمۂ وفا کیا ہے
وجہِ بے مہریِ بتاں سوچو
ذوقِ رعمیر کیوں نہیں مٹتا
کیوں اُجڑتی ہیں بستیاں سوچو
فکر سقراط ہے کہ زہر کا گھونٹ
باعثِ عمرِ جاوداں سوچو
لوگ معنی تلاش ہی لیں گے
کوئی بت ربط داستاں سوچو

درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر

Verses

درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر
دوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر

آج تک اس کے تعاقب میں بگولے ہیں رواں
ابر کا ٹکڑا کبھی برسا تھا ریگستان پر

میں جو پربت پر چڑھا، وہ اور اونچا ہو گیا
آسماں جھکتا نظر آیا مجھے میدان پر

کمرے خالی ہو گئے سایوں سے آنگن بھر گیا
ڈوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر

اب یہاں کوئی نہیں ہے کس سے باتیں کیجیے
یہ مگر چپ چاپ سی تصویر آتش دان پر

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے
تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

بس چلے تو اپنی عریانی کو اس سے ڈھانپ لوں
نیلی چادر سی تنی ہے جو کھلے میدان پر

وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیب
یا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشندان پر

جو محفل سے اُن کی نکالے ہوئے ہیں

Verses

جو محفل سے اُن کی نکالے ہوئے ہیں
غمِ دو جہاں کے حوالے ہوئے ہیں

ذرا تیرے گیسو جو بکھرے ہیں رخ پر
اندھیرے ہوئے ہیں، اُجالے ہوئے ہیں

ترے وصل کی آرزو، توبہ توبہ
یہ ارمان دل سے نکالے ہوئے ہیں

یہ کون آ رہا ہے کہ سب اہلِ محفل
متاعِ دل و جاں سنبھالے ہوئے ہیں

فسانہ ہے دل جن کی بے مہریوں کا
وہی درد ِ دل سُننے والے ہوئے ہیں

بڑا صاف تھا راستہ زندگی کا
تری زلف نے پیچ ڈالے ہوئے ہیں

یہاں سیف ہر دن قیامت کا دن ہے
وہ کس حشر پر بات ٹالے ہوئے ہیں