ہجر کی شام دھیان میں رکھنا

Verses

ہجر کی شام دھیان میں رکھنا
ایک دیا بھی مکان میں رکھنا

آئینے بچھانے آئے ھو
چند پتھر دکان میں رکھنا

اے زمیں حشر میں بھی ماں کی طرح
مجھ کو اپنی امان میں رکھنا

تیر پلٹے تو دل نہ زخمی ھو
یہ ہنر بھی کمان میں رکھنا

ایک دنیا یقیں سے روشن ھو
ایک عالم گمان میں رکھنا

خود پہ جب بھی غزل سنو مجھ سے
آئینہ درمیاں میں رکھنا

دل سے نکلے نہ یاد قاتل کی
یہ شکاری مچان میں رکھنا

جب زمیں کی فضا نہ راس آئے
آسماں کو اڑان میں رکھنا

مرثیہ جب لکھو بہاروں کا
زخم کوئی زبان میں رکھنا

خود بھی وہموں کے جال میں رہنا
اس کو بھی امتحان میں رکھنا

اتنی رسوائیاں بھی کیا"محسن"؟
کچھ بھرم تو جہان میں رکھنا

ہوائے شوق کے رنگیں دیار جلنے لگے

Verses

ہوائے شوق کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوئی جو شام تو جھکڑ عجیب چلنے لگے

نشیبِ در کی مہک راستے سمجھانے لگی
فراز بام کے مہتاب دل میں ڈھلنے لگے

وہاں رہے تو کسی نے بھی ہنس کے بات نہ کی
چلے وطن سے تو سب یار ہاتھ ملنے لگے

ابھی ہے وقت چلو چل کے اس کو دیکھ آئیں
نہ جانے شمس ِ رواں کب لہو اگلنے لگے

منیر پھول سے چہرے پہ اشک ڈھلکے ہیں
کہ جیسے لعل سم رنگ سے پگھلنے لگے

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں

Verses

شکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیں
مجھے وعدوں کی خالی سیپیاں اچھی نہیں لگتیں

گذشتہ رت کے رنگوں کا اثر دیکھو کہ اب مجھ کو
کھلے آنگن میں اڑتی تتلیاں اچھی نہیں لگتیں

وہ کیا اجاڑ نگر تھا جس کی چاہت کے سبب اب تک
ہری بیلوں سے الجھی ٹہنیاں اچھی نہیں لگتیں

دبے پاؤں ہوا جن کے چراغوں سے بہلتی ھو
مجھے ایسے گھروں کی کھڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

بھلے لگتے ھیں طوفانوں سے لڑتے بادبان مجھ کو
ھوا کے رخ پہ چلتی کشتیاں اچھی نہیں لگتیں

یہ کہہ کر آج اس سے بھی تعلق توڑ آیا ھوں
میری جاں مجھ کو ضدی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

کسی گھر میں رسن بستہ رھیں جو رات دن"محسن'
مجھے اکثر وہ سہمی ہرنیاں اچھی نہیں لگتیں

بجا، کہ یوں تو سکوں تیری بارگاہ میں ہے

Verses

بجا، کہ یوں تو سکوں تیری بارگاہ میں ہے
مگر یہی تو قیامت میری نگاہ میں ہے

مَیں جب بھی تجھ سے ملا، جیسے پہلی بار مِلا
بڑا سُرور ملاقاتِ گاہ گاہ میں ہے

جہاں بھی جاؤں، تعاقب میں ہیں مسائلِ زیست
پناہ صرف تیرے حُسنِ بے پناہ میں ہے

تمام عُمر کی مشقِ گناہ میں نہ ملی
وہ سر خوشی جو میرے اوّلیں گناہ میں ہے

نہ کر سکا مَیں بغاوت مزاجِ آدم سے
بلا کا نُور میرے نامئہ سیاہ میں ہے

اُفق پہ خلد کے آثار جھلملائے تو ہیں
مگر سُنا ہے، جہنّم بھی اس کی راہ میں ہے

چھُپا رہا ہے وہ داغ اپنی بے دماغی کا
جو سَر سجا ہوُا رزبفت کی کلاہ میں ہے

سحر سے عشق بھی ہو، شام کا شعور بھی ہو
یہی پیام میری آہِ صُبحگاہ میں ہے

خدا کا شکر کہ ارزاں نہیں میرے سجدے
میرے وجوُد کا پندار، لا اِلہٰ میں ہے

ندیمؔ حال کو کھا جائے گا وہ سناّٹا
کہ جس کی گوُنج سی، ماضی کی خانقاہ میں ہے

Mana Janab Ne Pukara Nahin Kya

Mana Janab Ne Pukaara Nahin Kya Mera Saath Bhi Gawara Nahi?
Mufte Main Banke Chal Diye Tan Ke Wallah Jawab Tumhara Nahin

Mana Janab Ne Pukaara Nahin, Kya Mera Saath Bhi Gawara Nahi?
Mufte Main Banke Chal Diye Tan Ke Wallah Jawab Tumhara Nahin

Mana Janab Ne Pukaara Nahin

Yaaron Ka Chalan Hao Ghulami Dete Hain Haseeno Ko Salaami (2)
Gussa Na Kijiye Jaane Bhi Dijiye Bandagi To Bandagi To Lijiye Sahaab

Mana Janab Ne Pukaara Nahin, Kya Mera Saath Bhi Gawara Nahi?
Mufte Main Banke Chal Diye Tan Ke Wallah Jawab Tumhara Nahin

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer