گھاؤ گہرا بھر جانا تھا

Verses

گھاؤ گہرا بھر جانا تھا
درد کو آخر مر جانا تھا

کون پلٹ کر کس کو دیکھے
سب کو اپنے گھر جانا تھا

اندھیاروں کے اس باسی کو
سُورج دیکھ کے ڈر جانا تھا

اشکوں کی سوغات ہے آخر
دامن اپنا بھر جانا تھا

ایک صلیب کھُبی ہے من میں
اب کی بار تو سر جانا تھا

وصل، کلی کا صرف تبسّم
ہجر کو دائم کر جانا تھا

جانے والے نے تو ہم پر
ہر الزام کو دھر جانا تھا

جی چاہتا ہے کوئی سخن آشنا بھی ہو

Verses

جی چاہتا ہے کوئی سخن آشنا بھی ہو
اب تو شریکِ درد کوئی دوسرا بھی ہو

پھر میں بھی ریزہ ریزہ بکھرنے سے بچ سکوں
پھر خوشگوار مجھ سے سلوکِ ہوا بھی ہو

پھر زندگی کے ڈھنگ بھی اچھے لگیں تمام
پھر ضوفشاں ہوا میں چراغِ انا بھی ہو

لفظوں میں سوز آئے گا لیکن یہ شرط ہے
اس غم میں کوئی میری طرح مبتلا بھی ہو

تنہا بھٹک رہا ہوں سرِ دشت آگہی
آواز دے کوئی کہ مجھے حوصلہ بھی ہو

زیست آزار ہوُئی جاتی ہے

Verses

زیست آزار ہوُئی جاتی ہے
سانس تلوار ہوُئی جاتی ہے

جسم بیکار ہوُا جاتا ہے
رُوح بیدار ہوُئی جاتی ہے

کان سے دل میں اُتری نہیں بات
اور گفتار ہوُئی جاتی ہے

دُھل کے نِکھری ہے حقیقت جب سے
کچھ پُر اسرار ہوُئی جاتی ہے

اب تو ہر زخم کی منہ بند کلی
لبِ اظہار ہوُئی جاتی ہے

پھُول ہی پھُول ہیں ہر سمت ندیم
راہ دشوار ہوُئی جاتی ہے

بالآخر یہ حسیں منظر مٹا دینا ہی پڑتا ہے

Verses

بالآخر یہ حسیں منظر مٹا دینا ہی پڑتا ہے
کسی کے سر کو شانے سے ہٹا دینا ہی پڑتا ہے

کسی دیر آشنا کو جھوٹے سچے کچھ حوالوں سے
تعارف کے لئے سب سے ملا دینا ہی پڑتا ہے

جو سانسوں میں مہکتے ہیں جو آنکھوں میں دمکتے ہیں
اچانک ایک دن ان کو بھلا دینا ہی پڑتا ہے

دئیے جو ہم جلاتے ہیں نہایت شوق سے ہر شب
انہیں خود اپنی پھونکوں سے بجھا دینا ہی پڑتا ہے

کوئی جب پوچھتا ہے ہم سے کیسا حال ہے ساجد
ہمیں محتاط ہو کر مسکرا دینا ہی پڑتا ہے

چمک اٹھتے ہیں ساجد جب ستارے اس کی پلکوں پر
اسے دل سے لگا کر حوصلہ دینا ہی پڑتا ہے

Mujhko Thand Lag Rahi Hai

mujhako thand lag rahi hai mujhase door tu naa jaa - 3
naa jaa - 3

aag dil mein lagi hai mere paas tu naa aa - 3
naa aa - 3
mujhako thand lag rahi hai mujhase door tu naa jaa
aag dil mein lagi hai mere paas tu naa aa

aag aur paani kaa sangam ho to kyaa anjaam ho - 2
naam dono kaa jamaane mein bahot badanaam ho - 2
yu badanaami kaa dar thaa to pyaar kyun kiyaa
mujhako thand lag rahi hai mujhase door tu naa jaa
aag dil mein lagi hai mere paas tu naa aa
mujhako thand lag rahi hai mujhase door tu naa jaa

واہمے سارے تیرے اپنے ہیں

Verses

واہمے سارے تیرے اپنے ہیں
ہم کہاں تجھ کو بھول سکتے ہیں

میری آنکھوں میں ایک مدت سے
قافلے رُت جگوں کے ٹھہرے ہیں

سر برہنہ ہواؤں سے پوچھو
ذائقے ہجرتوں کے کیسے ہیں

باز اوقات خشک پتے بھی
پاؤں پڑتے ہی چیخ اٹھتے ہیں

عشق کے خوش گمان موسم میں
پتھروں میں گلاب کھلتے ہیں

دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا

Verses

دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
سازِ خوابیدہ کو بیدار نہ کر دینا تھا

اپنے معصوم تبسم کی فروانی کو
وسعتِ دید پہ گلبار نہ کر دینا تھا

شوقِ مجبور کو بس ایک جھلک دکھلا کر
واقفِ لذتِ تکرار نہ کر دینا تھا

چشمِ مشتاق کی خاموش تمناوں کو
یک بیک مائلِ گفتار نہ کر دینا تھا

جلوہ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے
حسرتِ دل کو گنہگار نہ کر دینا تھا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer