لوگ وابستہ ہیں اُس یارِ طرح دار کے ساتھ

Verses

لوگ وابستہ ہیں اُس یارِ طرح دار کے ساتھ
اب بھی بیٹھے ہیں کئی سایۂ دیوار کے ساتھ

قیمتِ شوق بڑھی ایک ہی انکار کے ساتھ
واقعہ کچھ تو ہوا چشمِ خریدار کے ساتھ

ایسے لگتا ہے کسی دشت میں آ نکلے ہیں
کتنی الفت تھی ہمیں صحن کے اشجار کے ساتھ

ہر کوئی جان بچانے کے لیے دوڑ پڑا
کون تھا آخرِ دم قافلہ سالار کے ساتھ

ظلم سے ہاتھ اُٹھانا نہیں آتا ہے تو پھر
کچھ رعایت ہی کرو اپنے گرفتار کے ساتھ

حد سے بڑھ کر بھی تغافل نہیں اچھا ہوتا
کچھ تعلق بھی تو رکھتے ہیں پرستار کے ساتھ

میں ترے خواب سے آگے بھی نکل سکتا ہوں
دیکھ! مجھ کو نہ پرکھ وقت کی رفتار کے ساتھ

فصیلِ ذہن پہ سوچوں کا بھوت ہو جیسے

Verses

فصیلِ ذہن پہ سوچوں کا بھوت ہو جیسے
بدن کی بارہ دری میں سکوت ہو جیسے

بکھرے جسم میں قائم ہیں اس طرح آنکھیں
کسی محاذ پہ تنہا سپوت ہو جیسے

کچھ ایسے پیر زنِ وقت نے مجھے کاتا
مرا وجود بھی تکلے پہ سوت ہو جیسے

یہ کس کے ہجر میں بن باس لینے نکلے ہیں
تمام شہر کے تن پر بھبھوت ہو جیسے

جلوؤں کے تسلط سے مجھے ہوش نہیں ہے

Verses

جلوؤں کے تسلط سے مجھے ہوش نہیں ہے
پردہ تو یہی ہے کہ وہ روپوش نہیں ہے

گو حسن کی فطرت ہی وفا کوش نہیں ہے
اس پر بھی تو خالی کوئی آغوش نہیں ہے

اللہ رے محبت میں میری دیدہ دلیری
ہر جرم پہ کہتا ہوں مجھے ہوش نہیں

کیا جانئیے کیا سن کے چلا آیا ہے کوئی
اس طرح کہ آنچل بھی سر دوش نہیں ہے

الفت سے شکیل اب بھی تشنہ سوزش
بادہ ہے مگر بادہ سر جوش نہیں ہے

Mujhko Bhi Radha - Sad

mujhko bhi radha bana le nandalaal -4

yashoda ki angana main dungi buhaari
teri muraliya ko dungi na gaari
matki luta dungi maakhan ki saari -2
bansi bajaiya ...
bansi bajaiya o re kanhaiya
mujh ko bhi kar de nihaal -2

mujhko bhi raadha ...

charanon mein tere lipatke rahungi
tera diya har sukh-dukh sahungi
chhaliye tujhe kabhi kuch na kahungi -2
jamuna kinaare ...
jamuna kinaare rakhungi sajaake
kaaya ka kesariya thaal -2

mujhko bhi raadha ...

Halki Si Kasak Masak

halki si kasak-masak haay-haay kasak-masak
hoti hai dil mein
hu is dil ke haathon par pad gaye mushkil mein hu hu

nirlaj pavan ke jhonke bade hain
besharam mere peechhe pade hain
sau baar odhu aanchal na chhodu
phir bhi chunar rahe dhalki si
halki si dhadak-dhadak haay-haay dhadak-dhadak
hoti hai dil mein ...

bas chale aaye chaho jo ho jaaye
lambi umar ik pal ki si
halki si atak-satak haay-haay atak-satak
hoti hai dil mein ...

مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی

Verses

مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی

بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی

وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی

کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وُہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی

وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی

وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی

ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجد
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer