Dekho Jee Mera Jiya

dekho jee, mera jiya churaee liye jaae - 2

naam na jaanoon, dhaam na jaanoon - 2
kya hoga anjaam na jaanoon
mann panchhee ghabaraae
ae ri mera jiya churaae liye jaae
dekho jee

nain kahe ham ne dhan paaya
mann kose,mohe kiya paraaya
preet thumak muskaae
ae ri mera jiya churaae liye jaae
dekho jee

rasiya saadhoo, kar gaya jaadoo - 2
na tan pe, na mann pe kaboo
dhuli raama ke bharamaae
ae ri mera jiya churaae liye jaae
dekho jee

Posted by: p u r n i m a

اونے پونے غزلیں بیچیں،نظموں کا بیو پار کیا

Verses

اونے پونے غزلیں بیچیں،نظموں کا بیو پار کیا
دیکھو! ہم نے پیٹ کی خاطرکیا کیا کاروبار کیا

اس بستی کے لوگ تو سب تھے چلتی پھرتی دیواریں
ہم نے رنگ لٹاتی شب سے اجلے دنوں سے پیار کیا

ذہن سے اک اک کرکے تیری ساری باتیں اتر گئیں
کبھی کبھی تو وقت نے ہم کو ایسا بھی ناچار کیا

اپنا آپ بھی کھویا ہم نے، لوگوں سے بھی چھوٹا ساتھ
اک سائے کی دھن نے ہم کو کیسے کیسے خوار کیا

سارے عہد کا بوجھ تھا سر پر، دل میں سارے جہاں کا غم
وقت کا جلتا بلتا صحرا ہم نے جس دم پار کیا

جاگتی گلیوں، اونچے گھروں میں زرد اندھیرا ناچتا ہے
جس لمحے سے ہم ڈرتے تھے اس نے آخر وار کیا

شام کی ٹھنڈی آہوں میں بھی تیری خوشبو شامل تھی
رات گئے تک پیڑوں نے بھی تیرا ذکر اذکار کیا

Ai Jaan-E-Chaman Tera Gora Badan

ai husn-e-bekabar, tujhe takane ko ek nazar
jhukata to hoga roz tere ghar pe maahataab

(ai jaan-e-chaman tera gora badan jaise khilata hua gulaab
zaalim teri jawaani, qayaamat tera shabaab
ai jaan-e-chaman) - 2
ai jaan-e-chaman

mal-mal ke jism itana bhi, paani mein mat naha - 2
dar hai kahin ye paani bhi ban jaae na sharaab
ai jaan-e-chaman tera gora badan
ai jaan-e-chaman

کوئی امّید بر نہیں آتی

Verses

کوئی امّید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ھے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبعیت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی

داغِ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

Verses

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بار ہا دیکھا نہ جائے

غلط ہے جو سنا، پر آزما کر
تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے

یہ محرومی نہیں پاسِ وفا ہے
کوئی تیرے سوا دیکھا نہ جائے

یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر
کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے

فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے

مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے

Verses

مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے
دامِ خالی ، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس

جگرِ تشنۂ آزار ، تسلی نہ ہوا
جُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس

مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!
خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس

مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ، جو زباں کے بدلے
دشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غمخوار کے پاس

دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے ، لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے خُوبانِ دل آزار کے پاس

دیکھ کر تجھ کو ، چمن بسکہ نُمو کرتا ہے
خُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس

مر گیا پھوڑ کے سر غالب وحشی ، ہَے ہَے !
بیٹھنا اُس کا وہ ، آ کر ، تری دِیوار کے پاس

کیا پوچھتے ہو مجھ سے مری شورشِ جذبات؟

Verses

کیا پوچھتے ہو مجھ سے مری شورشِ جذبات؟
اک شہرِ طلسمات ہے، اک شہرِ طلسمات!

کیوں آتے نہیں آپ یہاں بہرِ ملاقات؟
کہنے کو تو کہہ دوں بھلے چھوٹی ہے بہت بات!

تم شادِ محبت رہے، ہم کشتۂ آفات
شاید یہی کہلاتی ہے دنیا میں مساوات!

ہے زیست کی، واللہ، عجب صورتِ حالات
سب علم و یقیں ہوگئے پا بستۂ شبہات

میں بھی کسی دھندلے سے تصور میں ملوں گا
یاد آئیں گے جب تم کو یہ گزرے ہوئے لمحات

وہ وقت پڑا ہے کہ بھلی دل کو لگی ہیں
اپنوں کی مدارات سے غیروں کی شکایات!

پابندئ غم، بندِ الم، صبر و تحمل
آدابِ محبت کے ہیں کیسے یہ مقامات!

سرور کو کہاں ڈھونڈتے ہو دیر و حرم میں؟
ہوگا کسی میخانے میں وہ رندِ خرابات!

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer