Verses

آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جلوہ گاہ میں

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں ،دیکھتے تو ہیں
میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

آتی ہے بات بات مجھے یاد بار بار
کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

اس توبہ پر ہے ناز مجھے زاہد اس قدر
جو ٹوٹ کر شریک ہوں حال تباہ میں

مشتاق اس ادا کے بہت درد مند تھے
اے داغ تم تو بیٹھ گئے ایک آہ میں

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer