Verses

اُطاقِ نفس میں اِک مشعلِ تمنا ہو
بدن بھڑکتی ہوئی لو سے جگمگاتا ہو

میں بحرِ خواب میں اِک کشتئِ وجود بنوں
ہوائے شب سے مرا بادبان کھلتا ہو

نظر مدار پہ پڑتی ہو اور لمحوں میں
ستارہ ٹوٹ کے قدموں میں آن گرتا ہو

سیاہ شب کی اُڑن طشتری سے دیکھوں تو
چراغ لے کے کوئی ٹھیکری پہ بیٹھا ہو

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer