Verses

بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
یہ دِل کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے

بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر
چراغِ وعدہ کوئی جلائے تو نیند آئے

ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے؟
دِیے کی لَو خُود سے تھر تھرائے تو نیند آئے

تمام شب جاگتی خموشی نے اُس کو سوچا
وہ زیرِ لَب گیت گنگنائے تو نیند آئے

بَس ایک آنسو بُہت ہے "محسن" کے جاگنے کو
یہ اِک سِتارہ کوئی بجھائے تو نیند آئے

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer