Verses

جب بھی تیرے ستم کی بات چلی
میرے ہمراہ کائنات چلی

چاند کی جستجو میں نکلے تھے
کہکشاں بھی ہمارے ساتھ چلی

چاندنی جانے کیوں سمٹ سی گئی
جب تیرے پیرہن کی بات چلی

آج پھر آ گیا ہے موج میں دل
آج پھر باد حادثات چلی

دور تک گونجتے ہیں سناٹے
ہم کو لے کر کدھر حیات چلی

ٹہنیاں ہو گئیں برہنہ تن
یوں تیری بات ، پات پات چلی

لوگ ملنے لگے بہت، جب سے
رسم ترکِ تعلقات چلی

شام سے لوگ پھر رہے ہیں اداس
آج یہ کس ادا سے رات چلی

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer