Verses

خزاں نصیب ہیں، رشتہ مگر بہار سے بھی
مُجھے تو گُل کی توقّع ہے نوکِ خار سے بھی

مُصر ہوُں مَیں، کہ گِنا جاؤں باوقاروں میں
انھیں یہ ضِد کہ مَیں خارج ہوں شمار سے بھی

جہاں بھی جاؤں، اسیرِ حیات رہتا ہوُں
یہ مسئلہ تو نہ حل ہو سکا فرار سے بھی

سحر کی کِتنی دُعا ئیں خُدا سے مانگی ہیں
اب التماس کروں گا جمالِ یار سے بھی

عجیب حشرِ محبّت کا سامنا ہے، کہ وہ
خفا خفا ہے، مگر دیکھتا ہے پیار سے بھی

مَیں مر بھی جاؤں تو تخلیق سے نہ باز آؤں
بنیں گے نت نئے خاکے میرے غبار سے بھی

ندیم وقت کا مرہم نہ میرے کام آیا
کہ زخمِ دل نہ بھرا طوُلِ انتظار سے بھی

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer