Verses

دل و نگاہ میں قندیل سی جلا دی ہے
سوادِ شب نے مجھے روشنی دکھا دی ہے

میں بارشوں میں نہاتا ہوں دھوپ اوڑھتا ہوں
مرا وجود کڑے موسموں کا عادی ہے

اسے کہو کہ ہواوں سے دوستی کر لے
وہ جس نے شمع سرِ رہگزر جلا دی ہے

کنارِ آب کھڑے اک اداس پیکر نے
ندی میں چپکے سے ایک پنکھڑی بہا دی ہے

فلک نے بھیج کے صحرا میں ابر کا ٹکڑا
ہم اہل دشت کی تشنہ لبی بڑھا دی ہے

قفس میں میرے سوا جب کوئی نہیں عامر
تو پھر یہ کس نے جوابا مجھے صدا دی ہے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer