Verses

دوست بن کر بھی نھیں ساتھ نبھانے والا
وھی انداز ھے ظالم کا زمانے والا

اب اسے لوگ سمجھتے ھیں گرفتار میرا
سخت نادم ھے مجھے دام میں لانے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ھمارے اس سے
وہ جو اک شخص ھے منہ پھیر کے جانے والا

تیرے ھوتے ھوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنھا ھوں تو کوئی نھیں آنے والا

منتظر کس کا ھوں ٹوٹی ھوئی دھلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ھے آنے والا

میں نے دیکھا ھے بہاروں میں چمن کو جلتے
ھے کوئی خواب کی تعبیر بتا نے والا

کیا خبر تھی جو میری جان میں گھلا ھے اتنا
ھے وھی مجھ کو سر -دار لانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ھو فراز
دوست ھوتا نھیں ھر ھاتھ ملانے والا

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer