Verses

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں
عمر گزری ہے اس قدر تنہا

رات بھر بولتے ہیں سناٹے
رات کاٹے کوئی کدھر تنہا

ڈُوبنے والے پار جا اُترے
نقشِ پا اپنے چھوڑ کر تنہا

دن گزرتا نہیں ہے لوگوں میں
رات ہوتی نہیں بسر تنہا

ہم نے دروازے تک تو دیکھا تھا
پھر نہ جانے گئے کدھر، تنہا

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer