Verses

صبح سے ہو گئی ہے یارب شام
کوئی نامہ ہے اور نہ کوئی پیام

مرحبا! زندگی کے یہ انعام
راہ پرخار، منزلیں بے نام

جو بھی کہنا ہو صاف کہہ دیجے
مجھ کو ہو تا ہے کیا کوئی الہام؟

زندگی کا فریب کیا کھائیں؟
زندگی کا خمیر ہیں اوہام

ہائے! مجبوریاں محبت کی
کر گئیں دل کا سارا کام تمام

ہم ہیں آسودۂ جفا ورنہ
نہیں ان کی وفا میں کوئی کلام

ڈھونڈتا ہوں بہانہ مرنے کا
زندگی ہو گئی ہے اک الزام

راس کیا آئیں راحتیں اس کو
دل سدا کا ہے خوگر آلام

جس میں جور و جفا کا رنگ نہیں
ایسے لطف و کرم کو میر ا سلام

ہوش کب آئے گا تجھے سرور؟
اب تو دنیا میں ہو گیا بدنام

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer