Verses

Article

ضیاء صاحب (ضیاء فتح آبادی) - ایک تاشر
- ڈاکٹر شارب ردولوی صاحب کا مضمون "ہماری زبان" اکتوبر ١٩٨٦ سے

ضیاء فتح آبادی اردو کے مشہور اور قادرالکلام شاعر ہیں- تقریبا " نصف صدی کی شعری فکر اور مشق میں انہوں نے ہر صنف سخن میں تبح آزمائی کی ہے- یہی وجہ ہے کہ انھیں غزل، نظم، گیت، قطعہ اور رباعی ہر صنف میں اظہار خیال پر پوری قدرت حاصل ہے- وہ ١٩٢٩ میں حضرت سیماب اکبرآبادی کے تلامذہ میں شامل ہوئے- جن کے مشوروں اور رہنمائی نے ان کے کلام میں زبان و بیان کی پاکیزگی و صفائی، اظہار میں سادگی اور فکر میں گہرائی اور دروں بینی کے جوہر پیدا کیے- انہوں نے اپنی شعر گوئی کے زمانے میں یوں تو کئی حضرات سے مشورہ سخن کیا لیکن سیماب سے جو عقیدت تھی اس کا اثر انکے کلام میں اکثر و بیشتر نظر آتا ہے- ضیاء فتح آبادی اور سیماب اکبرآبادی کا رشتہ مشورہ سخن سے زیادہ نہیں ہم آہنگی کا تھا جو ہمیشہ باقی رہا- اسی ذہنی ہم آہنگی کی وجہ سے ضیاء کی شاعری سیماب کے تلامذہ میں نمائندہ شاعری کہی جا سکتی ہے جس میں تصنع اور بناوٹ کا دخل نہیں ہے- جسے اردو کی صاف ستھری شاعری کہنا زیادہ مناسب ہوگا- سیماب صاحب صحت اور سادگی زبان پر بہت زور دیتے تھے- ضیاء نے بھی زبان کی سادگی کو اپنی شاعری کا زیور بنایا- انہوں نے صرف خیالی پیکر تراشنے یا تصّور کے غیر حقیقی قلعے بنانے کے بجاۓ اپنے جذبات و احساسات و تصّورات اور تجربات کو پراثر انداز میں الفاظ کا جامہ بخشا-

ضیاء فتح آبادی کو زبان و بیان پر برجستہ قدرت ہے اور وہ سادہ سلیس انداز میں جس طرح ہر موضوع کو نظم کر دیتے ہیں وہ بہت کم لوگوں کو میسّر ہے- ان کی یہ خوبی غزل، نظم دونوں میں پائی جاتی ہے- الفاظ کے انتخاب میں وہ بےحد محتاط ہیں اور کسی جگہ ایسا لفظ نہیں آنے دیتے جس سے نظم یا غزل کا آہنگ مجروح ہو وہ اپنے انتخاب الفاظ سے ترنّم پیدا کرتے ہیں- اس لیے ان کے پورے کلام میں رجائی کیفیت ملتی ہے- ان کے کلام کے مطالع سے کسی پژمردگی یا مایوسی کا احساس نہیں ہوتا- بلکہ جینے کی امنگ بڑھتی ہے اور زندگی زیادہ حسین اور دنیا زیادہ پرکیف معلوم ہونے لگتی ہے-

ابر بہار آیا دیوانہ وار آیا
اڑتا ہوا ہوا پر گاتا ہوا فضا پر
دنیا و ماسوا پر
انگڑائی لی چمن نے نرگس نے یاسمن نے
مرغان نغمہ زن نے
پروانے رقص میں ہیں پیمانے رقص میں ہیں
دیوانے رقص میں ہیں
* * * *
میری طرف بھی دیکھ لو نگاہ نیم باز سے
نگاہ نیم باز سے اداےدلنواز سے
اداے دلنواز سے غرور اور ناز سے
میری طرف بھی دیکھ لو
تمھاری اک نظر کا انتظار مدّتوں سے ہے
دل الم نصیب بےقرار مدّتوں سے ہے
مری نگاہ شوق اشک بار مدّتوں سے ہے
میری طرف بھی دیکھ لو
* * * *
جا رہی ہے تیرگی چھا گئی ہے روشنی
مسکراتی ہے کلی ہے فضا نکھری ہوئی
طائران خوش نوا
نغمہ ہاے دل ربا
مستیوں کا سلسلہ
گنگناتی ہے حیات رقص میں ہے کائنات
با خبر ہشیار ہے آدمی بیدار ہے

ضیاء کی شاعری میں یہ آہنگ اور ترنّم شاید ان کے گیتوں کی دین ہے اردو شاعری میں گیتوں کا سرمایہ بہت کم ہے- اس صنف شاعری کی طرف بہت کم دھیان دیا گیا- لیکن ١٩٣٤-١٩٣٥ کے قریب شعرا نے اردو گیت لکھنے شروع کیے- یہ اس وقت کے لیے انقلابی قدم تھا- لیکن ضیاء فتح آبادی نے زمانے کی بندشوں کو توڈ کر بہت خوبصورت گیت لکھ اور ان گیتوں کی وجہ سے الفاظ کا ترنّم اور آہنگ ان کی شاعری کی دوسری اصناف پر بھی اثر انداز ہوا- اس لیے خاص طور پر ان کی نظموں میں بھی وہی آہنگ اور ترنّم نظر آتا ہے-

ضیاء فتح آبادی کے نظریہ شعری میں شاعر فطرت کا پرستار، جذبات کا مصور اور حالات کا مبصّر ہے- انہوں نے اپنی شاعری میں پوری طرح اس نظریے کو برتا ہے- فطرت ان کے لیے خوبصورت دلہن سے زیادہ حسین ہے- بہار بسنت اور سحر پر ان کی ناظمین اور دوسری نظموں اور گیتوں میں مختلف اشعار ایسے ملتے ہیں جن میں انہوں نے فطرت کی عکاسی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے- انھیں موسم بہار، برسات کے حسن اور صبح کی خوبصورتی سے کیسا والہانہ عشق ہے- یہ ان کی نظموں میں ہر جگہ ظاہر ہوتا ہے، اس طرح جذبات کی مصّوری میں بھی انھیں کمال حاصل ہے- وہ اپنے جذبات و احساسات کو بڑی سادگی کے ساتھ شعروں میں بیان کر دیتے ہیں- ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان جذبات و احساسات کو پیش کرنے میں وہ تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیتے بلکہ بعض جگہ تو انہوں نے رسوائی اور بدنامی سے بے نیاز ہو کر اپنے جذبات کو بڑی معصومیت کے ساتھ نظم کر دیا ہے اس کی اصل وجہ شاید ان کی صاف دلی اور خلوص ہے- ان کی شاعری میں ان کا آئنہ دل ایک شفّاف شیشے کی طرح ہے جس کو ہر شخص بہ آسانی پڑھ سکتا ہے-

ان کی نظریہ شاعری میں تیسری چیز، تبصرہ حالات ہے جس سے ان کی مراد شاعری اور زندگی یا اس زمانے کے حالات کا اٹوٹ رشتہ ہے- یہ بات ظاہر ہے کہ مبصّر نا قد بھی ہوتا ہے وہ کسی چیز پر راۓدینے سے پہلے خوبیوں اور خامیوں کو پرکھتا ہے- اس کے بعد اچھے یا برے کا فیصلہ کرتا ہے- شاعر زندگی میں جو کچھ دیکھتا ہے اس کی اچھائیوں یا برائیوں کو ایک مبصّر کی حیثیت سے پرکھتا ہے اس کے بعد اس کی خوبصورتی یا خرابی کے بارے میں لکھتا ہے- ضیاء فتح آبادی اس سلسلے میں جمہور سے آگے بڑھ کر خون دہقاں اور محنت و مزدور کی باتوں تک پہنچ جاتے ہیں-

حوصلوں کی ہے ابھی قربانیوں کی احتیاج
دار کا چرچا کریں منصور کی باتیں کریں
زہر جس کا درپئے تخریب انساں ہے ہنوز
سینہ گیتی کے اس ناسور کی باتیں کریں

اس آگہی کی شمع کو روشن کرنے کی تمنّا ضیاء کی سب سے بڑی تمنّا ہے- انہوں نے غزل کی سرمست اور عاشقانہ صنف اور رومانی روایت کے با وجود اس صنف سخن میں بھی آگہی کی یہ شمع روشن کرنے کی کوشش کی ہے- یہی وجہ ہے کہ دشمن کو بھی انہوں نے سایہدوستی میں اماں دے کر زندگی کے حسن میں اضافہ کیا ہے اور رجائیت کا پرچم بلند رکھا ہے-

گر آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراگاں بھی
تخریب میں شامل ہے تعمیر کا ساماں بھی
#####

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer