Verses

محبت میں کوئی بھی المیہ اچھا نہیں لگتا
وفا کے باب میں بھی تجزیہ اچھا نہیں لگتا

ہمیں اچھا تو لگتا ہے جِگر کے درد کو چُھونا
مگر یہ درد جس نے بھی دیا،اچھا نہیں لگتا

تمہیں ضِد ہے بجھانے کی،جلانا خُو ہماری ہے
ہمیں بھی طاق پر بجھتا دیا اچھا نہیں لگتا

نئے رستے بنا کر ان پہ چلنا اپنی فطرت ہے
کسی نے جب انہیں اپنا لیا، اچھا نہیں لگتا

بلا سے شہر سارا مے کو، مے خانوں کو پی جائے
مگر یہ زہر اس نے بھی پیا، اچھا نہیں لگتا

ہمارے سر پہ رکھ کر ہاتھ اس نے جو قسم کھائی
پھر اس کو توڑ کر بھی وہ جیا، اچھا نہیں لگتا

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer