Verses

میں آسماں کی شاخ پہ زندہ ہوں دوستو
چمکار کر بلاؤ، پرندہ ہوں دوستو

اب کے فساد نے مجھے یہ بھی بتا دیا
میں آدمی نہیں ہوں، درندہ ہوں دوستو

تم جن کے نیچے بیٹھ کے اوتار ہو گئے
ان برگدوں کا میں بھی پرندہ ہوں دوستو

اخبار میں خبر مر ے مرنے کی چھپ گئی
میں چیختا رہا کہ میں زندہ ہوں دوستو

سچ یہ ہے میری بابری مسجد مُجھی میں ہے
اور میں خُدا کے فضل سے زندہ ہوں دوستو

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer