Verses

چھپا کے سَر میں جو تہذیب کے کھنڈر نِکلے
وہ اپنے آپ سے کس درجہ بے خبر نِکلے

رُکے جو لوگ، تو اِک آبجُو بھی دریا تھی
اُتر گئے تو سمندر بھی تیر کر نِکلے

ہر ایک روح یہاں، جسم کے لباس میں ہے
کہ پتّھروں کو جو توڑا، شرر شرر نِکلے

اگر جنوں ہے، تو آداب اس کے شب سے سِیکھ
اِدھر ہو چاک گریباں، اُدھر سحر نِکلے

یہ سوچ کر مَیں فقط ایک رہگزر پہ چلا
یہ رہگزر نہ کہیں تیری رہگزر نِکلے

لہو پلا کے خزاں میں بھی سینچتا ہوں جسے
بڑا مزا ہو جو یہ پیڑ بے ثمر نِکلے

میں اس خیال سے مرمر کے زندہ ہوں، کہ کبھی
حیات کا نہ سہی، موت کا تو ڈر نِکلے

ندیم، عدل کی زنجیرِ در بجائی تو ہے
مَیں ڈر رہا ہوں کہ یہ بھی نہ اُس کا گھر نِکلے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer