Verses

کیوں کے نکلا جائے بحرِ غم سے مجھ بیدل کے پاس
آکے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس

ہے پریشاں دشت میں کس کا غبارِ ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس

بوئے خوں آتی ہے بادِ صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کےپاس

آہ نالے مت کیا کر اس قدر بے تاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کےپاس

Author

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer