Verses

یہ دوپہر، یہ خموشی کے لب پہ سائیں سائیں
چلو، حیات کی اِس قبر پر چراغ جلائیں

وہ حشر ہے کہ کسی کو بھی اپنا گھر نہیں مِلتا
کِسی نے راستہ پوچھا تو رو پڑیں گی ہوَائیں

الٰہی، اب کوئی آندھی عطا ہو صحراؤں کو
سمندروں پہ تو گھِر کر برس گئی ہیں گھٹائیں

یہ سادگی ہے کہ درد آشناؤں کی پُرکاری
میری خوشی کے لیے میرے غم کی قسمیں کھائیں

اک ایسا وقت بھی آتا ہے طولِ ہجر کے ہاتھوں
دل اُن کو یاد کیے جائے، اور وہ یاد نہ آئیں

اب اِنتظار کی شِدّت میں نیند آنے لگی ہے
کہیں فراق کی سب اُلجھنیں سُلجھ ہی نہ جائیں

اب اس سے بڑھ کے بھی معراجِ نارسائی کیا ہو
مُجھے گلے سے لگائیں مگر سمجھ میں نہ آئیں

اُنھیں دلوں کے عجائب گھروں میں لا کے سجا دو
قدیم عہد کے آثار بن چکی ہیں وفائیں

ندیم، مَیں کبھی اظہارِ مدّعا نہ کروں گا
مگر وہ، بہرِ خدا، یہ غزل تو سُنتے جائیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer