مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے

Verses

مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جُگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے

یہ تنہا رات، یہ گہری فضائیں

Verses

یہ تنہا رات، یہ گہری فضائیں
اُسے ڈھونڈیں کہ اُس کو بھول جائیں

خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں
گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں

یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیں
یہاں چُھپ چُھپ کے چلتی ہیں ہوائیں

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اِسے دیکھیں کہ اِس میں ڈوب جائیں

جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں
انہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں

چلو ایسا مکاں آباد کر لیں
جہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں

کہاں ڈھونڈیں اُسے کیسے بلائیں

Verses

کہاں ڈھونڈیں اُسے کیسے بلائیں
یہاں اپنی بھی آوازیں نہ آئیں

پرانا چاند ڈوبا جا رہا ہے
وہ اب کوئی نیا جادو جگائیں

اب ایسا ہی زمانہ آ رہا ہے
عجب کیا وہ تو آئیں، ہم نہ آئیں

ہوا چلتی ہے پچھلے موسموں کی
صدا آتی ہے ان کو بھول جائیں

بس اب لے دے کے ہے ترکِ تعلق
یہ نسخہ بھی کوئی دن آزمائیں

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer