احمد کمال

اجنبی خوف فضاؤں میں بسا ہو جیسے

Verses

اجنبی خوف فضاؤں میں بسا ہو جیسے
شہر کا شہر ہی آسیب زدہ ہو جیسے

رات کے پچھلے پہر آتی ہیں آوازیں سی
دور صحرا میں کوئی چیخ رہا ہو جیسے

در و دیوار پہ چھائی ہے اداسی ایسی
آج ہر گھر سے جنازہ سا اٹھا ہو جیسے

مسکراتا ہوں پئے خاطرِ احباب مگر
دکھ تو چہرے کی لکیروں پہ سجا ہو جیسے

اب اگر ڈوب گیا بھی تو مروں گا نہ کمال
بہتے پانی پہ میرا نام لکھا ہو جیسے

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer