احمد ندیم قاسمی

اسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا

Verses

اسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اسکی صبحِ عروج تھی وہ میرا وقتِ زوال تھا

مرا درد کیسے وہ جانتا مری بات کیسے وہ مانتا
وہ تو خود فنا ہی کے ساتھ تھا اسے روکنا بھی محال تھا

وہ جو اسکے سامنے آگیا کسی روشنی میں نہا گیا
عجب اسکی ہیبتِ حسن تھی عجب اسکا رنگِ جمال تھا

دمِ واپسیں اسے کیا ہوا نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا وہ جو اپنی آپ مثال تھا

وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پہ کوئی گلا نہ تھا
اسے میری چپ نے رُلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

میرے ساتھ لگ کے وہ رودیا اور صرف اتنا ہی کہہ سکا
جسے جانتا تھا میں زندگی وہ تو صرف وہم و خیال تھا

جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں

Verses

جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رُلائیں
ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں

ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ
کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں

پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی
پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں

پھر بیت نہ جائے یہ جوانی، یہ زمانہ
آؤ تو یہ اُجڑی ہوئی محفل بھی سجائیں

پھر لوٹ کے آئیں گے یہیں قافلے والے
اُٹھتی ہیں اُفق سے کئی غمناک صدائیں

شاید یہی شعلہ مری ہستی کو جلا دے
دیتا ہوں میں اڑتے ہوئے جگنو کو ہوائیں

اے کاش ترا پاس نہ ہوتا مرے دل کو
اٹھتی ہیں پر رک جاتی ہیں سینے میں صدائیں

اک آگ سی بھر دیتا ہے رگ رگ میں تبسّم
اس لطف سے اچھی ہیں حسینوں کی جفائیں

معبود ہو اُن کے ہی تصّور کی تجلّی
اے تشنہ لبو آؤ! نیا دَیر بنائیں

ہم سنگِ دریا پہ بے ہوش پڑے ہیں
کہہ دے کوئی جبریل سے، بہتر ہے، نہ آئیں

ہاں، یاد تو ہوگا تمہیں راوی کا کنارا
چاہو تو یہ ٹوٹا ہوا بربط بھی بجائیں

توبہ کو ندیم آج تو قربان کرو گے
جینے نہیں دیتیں مجھے ساون کی گھٹائیں

بگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے

Verses

بگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے
وہ زودِ رنج تو ہے، وہ وفا شناس بھی ہے
تقاضے جِسم کے اپنے ہیں، دل کا مزاج اپنا
وہ مجھ سے دور بھی ہے، اور میرے آس پاس بھی ہے
نہ جانے کون سے چشمے ہیں ماورائےِ بدن
کہ پا چکا ہوں جسے، مجھ کو اس کی پیاس بھی ہے
وہ ایک پیکرِ محسوس، پھر بھی نا محسوس
میرا یقین بھی ہے اور میرا قیاس بھی ہے
حسیں بہت ہیں مگر میرا انتخاب ہے وہ
کہ اس کے حُسن پہ باطن کا انعکاس بھی ہے
ندیم اُسی کا کرم ہے، کہ اس کے در سے ملا
وہ ا یک دردِ مسلسل جو مجھ کو راس بھی ہے

اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا

Verses

اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
تجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گا

جستجو بھی مرا فن ہے ، مرے بچھڑے ہوئے دوست!
جو بھی در بند ملا ، اس پہ صدا دے دوں گا

اک پل بھی ترے پہلو میں جو ملے ، تو میں
اپنے اشکوں سے اسے آبِ بقا دے دوں گا

رخ بدل دوں گا صبا کا ، ترے کوچے کی طرف
اور طوفان کو اپنا ہی پتہ دے دوں گا

احمد ندیم قاسمی

اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا

Verses

اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا
دشت میں آج بھی اُٹھتے ہیں بگولے کیا کیا

عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام
ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا

جیسے ہم آدم و حوا کی سزا بھول گئے
ورغلاتے رہے جنت کے نظارے کیا کیا

یہ الگ بات کہ بر سے نہیں گرجے تو بہت
ورنہ بادل مرے صحراؤں پہ اُمڈے کیا کیا

آگ بھڑکی تو درو بام ہوئے راکھ کے ڈھیر
اور دیتے رہے احباب دلاسے کیا کیا

احمد ندیم قاسمی

اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا

Verses

اشک تھا، چشمِ تر کے کام آیا
مَیں بشر تھا، بشر کے کام آیا

میری قسمت میں شب تھی، لیکن مَیں
شمع بن کر سحر کے کام آیا

روح میری، شجر کی چھاؤں بنی
جسم، گردِ سفر کے کام آیا

جبر کو بھی زوال ہے جیسے
آہن، آئینہ گر کے کام آیا

عجز کو بھی عروج ہے جیسے
ایک قطرہ، گہر کے کام آیا

زندگی، اہلِ شر کے گھر کی کنیز
خیر کا کام، مر کے کام آیا

تاجِ زرّیں پہ کچھ نہیں موقوف
سنگِ طفلاں بھی سر کے کام آیا

سیم و زر آدمی کے چاکر تھے
آدمی سیم و زر کے کام آیا

فقر و فاقہ میں مر گیا شاعر
شعر، اہلِ نظر کے کام آیا

کاش سُن لوُں کہ میرا شہپرِ فن
کِسی بے بال و پر کے کام آیا

احمد ندیم قاسمی

خاک پر خلدِ بریں کی باتیں

Verses

خاک پر خلدِ بریں کی باتیں
چاند پر جیسے زمیں کی باتیں

دل سے اِک شمع جبیں کی باتیں
اُسی محفل میں وہیں کی باتیں

لبِ دشمن کو بھی شیریں کردیں
اس کے حُسنِ نمکیں کی باتیں

وہم سے بو قلموں کون و مکاں
ورنہ یک رنگ، یقیں کی باتیں

دل کا پتھّر نہ کسی سے پگھلا
لوگ کرتے رہے دیں کی باتیں

میرے ناقد! میرا موضوعِ سخن
یہی دنیا ہے، یہیں کی باتیں

بے وفا وقت نہ تیرا ہے، نہ میرا ہو گا

Verses

بے وفا وقت نہ تیرا ہے، نہ میرا ہو گا
رات بھی آئے گی، سُورج کا بھی پھیرا ہو گا

مَیں تو اس سوچ میں گم ہوں کہ ہنسوں یا رو دوں
شب نے لی آخری ہچکی تو سویرا ہو گا

تم حقیقت سے جو ڈرتے ہو تو دن کے با وصف
بند کر لو اگر آنکھیں تو اندھیرا ہو گا

شاید اس دکھ سے اُجڑتی چلی جاتی ہے زمین
اب تو انساں کا ستاروں پہ بسیرا ہو گا

کتنی شدّت پہ ہے، زنداں میں، میری غیرتِ فن
یہ وہ جنگل ہے جو جل کر بھی گھنیرا ہو گا

عام ہو جائے نہ اس پیکرِ مے فام کا نام

Verses

عام ہو جائے نہ اس پیکرِ مے فام کا نام
گردشِ چشم کو دُوں گردشِ ایّام کا نام

نام بدنام ہے نکہت کا، مگر موجِ صبا
جپ رہی ہے میرے محبوُبِ گُل اندام کا نام

وصل کے بعد کی تنہائی بھی اِک دُنیا ہے
لوگ آغاز کو دے دیتے ہیں انجام کا نام

شب نہ کٹتی تو نئی آگ نہ جلتی دِل میں
صُبح کی ساری شرارت ہے مگر شام کا نام

دل کی چیخوں میں سُنائی نہیں دیتا کچھ بھی
شبِ خاموش ہے شاید اسی کہرام کا نام

آسماں کچھ بھی نہیں عجِز بصارت کے سوا
نارسائی ہے محبت کی، لبِ بام کا نام

کتنے معصوم ہیں انساں، کہ بہل جاتے ہیں
اپنی کوتاہی کو دے کر غم و آلام کا نام

ایک لمحے کو رُکا ہوں تو اُفق پھیل گیا
اب تو مر کر بھی نہ لوں گا کبھی آرام کا نام

یوُں مُسلماں تو بہت ہیں، مگر اب تک نہ سُنا
اِک مُسلماں سے بھی اِک پیرو اسلام کا نام

یہ فقط میرا تخلّص ہی نہیں ہے، کہ ندیم
میرا کردار کا کردار ہے، اور نام کا نام

Theme by Danetsoft and Danang Probo Sayekti inspired by Maksimer